کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جنازہ قریب سے گزرنے پر اس کی تعریف بیان کرنا
حدیث نمبر: 12361
١٢٣٦١ - حدثنا هشيم بن بشير حدثنا عبد العزيز بن صهيب (البناني) (١) عن (أنس) (٢) قال: مرت جنازة برسول اللَّه ﷺ فأثني عليها (بخير) (٣) حتى (تتابعت) (٤) (الألسن) (٥) (فقال) (٦) رسول اللَّه ﷺ: "وجبت". قال: ومرت (به) (٧) جنازة فأثني ⦗١٩٤⦘ (عليها) (٨) (بشر) (٩) حتى تتابعت الألسن فقال رسول اللَّه ﷺ: "وجبت". فقال عمر ابن الخطاب: يا رسول اللَّه قلت في الجنازة الأولى حيث أثني عليها خيرًا: "وجبت"، وقلت في الثانية كذلك، فقال: " [(هذا) (١٠) أثنيتم عليه خيرًا فوجبت له الجنة، وهذا أثنيتم عليه شرا فوجبت له النار] (١١) إنكم شهود اللَّه في الأرض"، مرتين (أو) (١٢) (ثلاثًا) (١٣) (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو تو کسی نے اس کی تعریف بیان کی اس کی دیکھا دیکھی میں کئی اور زبانوں پر بھی اس کی تعریف تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، (پھر ایک دفعہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو کسی نے اس کی برائی بیان کی اس کی دیکھا دیکھی میں کئی اور زبانوں پر اس کی برائی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جب پہلا جنازہ گزرا اور اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی، اور دوسرے میں بھی آپ نے فرمایا واجب ہوگئی (کیا واجب ہوئی ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو، دو یا تین بار یہ جملہ مبارکہ ارشاد فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12361
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٣٦٧) ومسلم (٩٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12361، ترقيم محمد عوامة 12118)
حدیث نمبر: 12362
١٢٣٦٢ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى (بن) (١) عبيدة عن (إياس) (٢) بن (سلمة) (٣) عن أبيه قال: مر على النبي ﷺ بجنازة رجل من الأنصار فأثني عليها (خيرًا) (٤) فقال: "وجبت" [(ثم مر) (٥) عليه بجنازة (أخرى) (٦) (فأثني) (٧) عليها ⦗١٩٥⦘ دون ذلك فقال رسول اللَّه ﷺ: "وجبت] (٨) "، فقالوا: يا رسول اللَّه ﷺ، وما وجبت؟ قال: "الملائكة شهود اللَّه في السماء وأنتم شهود اللَّه في الأرض" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو اس کی تعریف بیان کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا واجب ہوگئی، پھر ایک جنازہ گذرا تو اس کی برائی بیان کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہوگئی، صحابہ کرام نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا واجب ہوگیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ملائکہ آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں اور تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12362
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه الطبراني (٦٢٦٢)، وابن جرير في التفسير (٢١٩٠)، وابن أبي حاتم في التفسير (١٠٠٥٥)، والروياني (١١٥٣)، وهناد في الزهد (٣٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12362، ترقيم محمد عوامة 12119)
حدیث نمبر: 12363
١٢٣٦٣ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن (أبي) (١) سلمة عن أبي هريرة قال: مروا على النبي ﷺ بجنازة فأثني عليها (بخير) (٢) في مناقب الخير فقال: "وجبت"، ثم مروا بأخرى فأثني عليها (بشر) (٣) في مناقب الشر فقال: "وجبت، إنكم (شهداء) (٤) اللَّه في الأرض" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو اس کی اچھائی بیان کی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو برائیوں میں سے اس کی برائی بیان کی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا واجب ہوگئی، بیشک تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12363
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمر صدوق، أخرجه أحمد (٧٥٥٢)، وابن ماجه (١٤٩٢)، وابن حبان (٣٠٢٤)، والبزار (٨٦٧/ كشف) وأبو يعلى (٥٩٧٩)، وهناد في الزهد (٣٦٧)، وانظر حديث رقم: [١٢٣٦٦]، في آخر الباب.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12363، ترقيم محمد عوامة 12120)
حدیث نمبر: 12364
١٢٣٦٤ - حدثنا عفان حدثنا داود بن أبي الفرات عن عبد اللَّه بن (١) بريدة عن أبي الأسود (الديلي) (٢) قال: قدمت المدينة وقد وقع بها مرض فجلست إلى عمر بن ⦗١٩٦⦘ الخطاب، فمرت بهم جنازة فأثني (على صاحبها) (٣) (خير) (٤) فقال عمر: وجبت، ثم (مر) (٥) بأخرى فأثني عليها (بشر) (٦) فقال عمر: وجبت. فقال أبو الأسود: فقلت: وما وجبت يا أمير المؤمنين؟ قال: قلت كما قال رسول اللَّه ﷺ: "أيما مسلم (يشهد) (٧) له أربعة بخير أدخله اللَّه الجنة"، فقلنا وثلاثة قال: "وثلاثة"، فقلنا: وأثنان قال: "وأثنان"، ثم (لم نسأله) (٨) عن الواحد (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الوسود الدیلی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اس میں وبا پھیلی ہوئی تھی، میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس بیٹھا تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا جس کی اچھائی بیان کی گئی، حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، پھر ایک جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، حضرت ابو الاسود نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! کیا واجب ہوگئی ؟ حضرت عمر نے فرمایا میں نے اسی طرح کہا ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس مسلمان کی چار بندے اچھائی کی گواہی دیں اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے، ہم نے عرض کیا اگر تین ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین پر بھی، ہم نے عرض کیا اگر دو ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو پر بھی جنت میں داخل فرمائیں گے، پھر ہم نے ایک کے متعلق سوال نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12364
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٣٦٨) وأحمد (٣١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12364، ترقيم محمد عوامة 12121)
حدیث نمبر: 12365
١٢٣٦٥ - حدثنا جرير عن عبد العزيز (بن رفيع) (١) عن خيثمة قال: قال عبد اللَّه: انظروا الناس عند مضاجعهم فإذا رأيتم العبد يموت على خير ما ترونه فارجوا له الخير، وإن رأيتموه يموت على شر (ما) (٢) ترونه فخافوا عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو ان کے چارپائیوں کے پاس دیکھو، اگر تم کسی مرنے والے بندے میں خیر دیکھو تو اس کے لیے خیر کی امید رکھو، اگر تم مرنے والے میں برائی دیکھو تو اس پر خوف کھاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12365
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12365، ترقيم محمد عوامة 12122)
حدیث نمبر: 12366
١٢٣٦٦ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) (قال) (٢): حدثنا (مسعر) (٣) قال: ⦗١٩٧⦘ حدثني إبراهيم بن عامر (بن مسعود) (٤) عن عامر بن سعد عن أبي هريرة قال: توفي رجل فذكر عند النبي ﷺ[فأثني عليه (خير) (٥) فقال] (٦): "وجبت"، وتوفي آخر فذكر منه (شر) (٧) فقال النبي ﷺ: "وجبت"، فقال بعض القوم: عجب من (قول) (٨) رسول اللَّه ﷺ: "وجبت"، فقال النبي ﷺ: " (بعض شهداء على بعض) (٩) " (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ذکر خیر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس پر (جنت) واجب ہوگئی، دوسرے شخص کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس کا ذکر شر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس پر (جہنم) واجب ہوگی، کچھ حضرات نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہمیں آپ کے قول واجب ہوگئی سے تعجب ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بعض لوگ بعض پر گواہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12366
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عامر بن سعد صدوق، أخرجه أحمد (١٠٠١٣)، وأبو داود (٣٢٣٣)، والنسائي ٤/ ٥٠، والطيالسي (٢٣٨٨)، والبخاري في التاريخ ١/ ٣٠٧، وإسحاق (٣٥٧)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١٠٦، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٣٥٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12366، ترقيم محمد عوامة 12123)