حدیث نمبر: 12359
١٢٣٥٩ - حدثنا وكيع عن همام بن يحيى عن قتادة قال: شهدت جنازة في الأساورة فازدحموا على الجنازة وقال أبو (السوار) (١) العدوي: (ترى) (٢) هؤلاء ⦗١٩٣⦘ أفضل (أو) (٣) أصحاب محمد ﷺ، كان أحدهم (إذا) (٤) رأى محملًا حمل وإلا اعتزل ولم يؤذوا أحدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں اس اورہ (بصرہ کے رہنے والے عجمی) میں سے ایک شخص کے جنازے میں شریک ہوا، انہوں نے جنازے کو کندھا دینے میں ازدحام کیا تو حضرت ابو السوار العدوی نے فرمایا : ان لوگوں کو دیکھو یہ افضل ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ؟ صحابہ کرام میں کوئی صحابی اگر جنازے کو کندھا دینا ممکن دیکھتا تو کندھا دیتا وگرنہ ہٹ جاتا اور کسی کو تکلیف نہ پہنچاتا۔
حدیث نمبر: 12360
١٢٣٦٠ - حدثنا وكيع عن مهدي عن رجل يقال له: إسماعيل الجحدري قال: خرجنا في جنازة فشهدها الحسن قال: فرأى قومًا ازدحموا على السرير فقال الحسن: ما شأن هؤلاء؟ إني لأظن الشيطان (حسر) (١) من الناس، فاتبعهم (ليحبط) (٢) أجورهم.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل الحجدری فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں نکلے تو اس میں حسن بھی شریک تھے، انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ چارپائی پر ازدحام کر رہے ہیں، حسن نے فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہے ؟ میرا گمان ہے کہ شیطان نے لوگوں میں خیر اور اجر کا احساس دیکھا تو ان کے ساتھ مل گیا اور ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ جنازے کو کندھا دینے میں ازدحام سے کام لیں اور اس سے دوسروں کو تکلیف ہو اور وہ ان کے اجر کو ضائع کر دے۔