حدیث نمبر: 12281
١٢٢٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن (ابن) (١) أبي نجيح عن مجاهد عن أبي معمر عن علي (قال) (٢): كنا جلوسًا فمرت جنازة فقمنا فقال: ما هذا؟ (فقلنا) (٣) (٤): هذا أمر أبي (موسى) (٥)، فقال: إنما قام رسول اللَّه ﷺ مرة ثم لم يعد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی معمر فرماتے ہیں کہ ھم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ جنازہ گذرا ہم کھڑے ہوگئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ ھم نے عرض کیا حضرت ابو موسیٰ نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے، آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک بار کھڑے ہوئے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہونے کا اعادہ نہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 12282
١٢٢٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بن فضيل عن يزيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كنا مع علي (فمُرَّ) (١) علينا بجنازة فقام رجل فقال عليُ: ما هذا؟ (كان) (٢) هذا من صنيع اليهود (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ھم حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ کے پاس تھے کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گذرا، ایک شخص کھڑا ہوگیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ یہ تو یہود کے طریقوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 12283
١٢٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الوهاب) (١) الثقفي عن أيوب عن محمد عن (الحسن) (٢) بن علي وابن عباس أنهما رأيا جنازة فقام أحدهما وقعد الآخر فقال الذي (قام للذي) (٣) لم (يقم) (٤): (٥) ألم يقم رسول اللَّه ﷺ قال: بلى، ثم قعد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جنازہ دیکھا تو ان میں سے ایک کھڑے ہوگئے اور دوسرے بیٹھے رہے، جو کھڑے ہوئے تھے انہوں نے ان سے پوچھا جو کھڑے نہ ہوئے تھے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نہ ہوتے تھے ؟ انہوں کہا کیوں نہیں پھر بیٹھ گئے۔
حدیث نمبر: 12284
١٢٢٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن أبي إسحاق قال: كان أصحاب علي وأصحاب عبد اللَّه (لا يقومون) (٢) (للجنائز) (٣) إذا مرت بهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ کے اصحاب کے پاس سے جب جنازہ گذرتا تو کھڑے نہ ہوتے۔
حدیث نمبر: 12285
١٢٢٨٥ - حدثنا وكيع (بن) (١) الجراح عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: كان أصحاب عبد اللَّه تمر بهم الجنائز فلا يقوم منهم (أحد) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے اصحاب کے پاس سے جنازہ گزرا تو ان میں سے کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔
حدیث نمبر: 12286
١٢٢٨٦ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: لم يكونوا (يقومون) (١) للجنائز (إذا) (٢) مرت بهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ (صحابہ کرام) کے پاس سے جب جنازہ گزرتا تو وہ کھڑے نہ ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 12287
١٢٢٨٧ - حدثنا حميد (١) عن (حسن) (٢) عن ليث قال: (كان) (٣) عطاء ومجاهد يريان الجنازة (و) (٤) لا يقومان إليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اور حضرت مجاہد نے جنازہ دیکھا لیکن کھڑے نہ ہوئے۔
حدیث نمبر: 12288
١٢٢٨٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن محمد بن المنكدر عن مسعود بن الحكم قال: قال عليّ: قام رسول اللَّه ﷺ للجنازة فقمنا ثم جلس فجلسنا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازے کے لئے کھڑے ہوئے تو ھم بھی کھڑے ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو ھم بھی بیٹھ گئے۔