کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کسی شخص کا کوئی بچہ انتقال کر جائے تو اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 12238
١٢٢٣٨ - حدثنا شريك عن عبد الرحمن (بن) (١) (الأصبهاني) (٢) قال: أتاني (أبو) (٣) صالح يعزيني عن ابن لي فأخذ يحدث عن أبي سعيد وأبي هريرة أن النبي ﷺ قلن له النساء: اجعل لنا يومًا كما جعلته للرجال قال: فجاء إلى النساء فوعظهن وعلمهن وأمرهن وقال لهن: "ما من امرأة تدفن ثلاثة (فرط) (٤) إلا كانوا لها حجابًا من النار"، قال: فقالت امرأة: (يا رسول اللَّه) (٥) قدمت اثنين: (قال) (٦): "ثلاثة" (ثم) (٧) قال: " (واثنين (واثنين) (٨) "، قال أبو هريرة: من لم يبلغ الحنث (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن الاصبھانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو صالح میرے پاس میرے بیٹے کی تعزیت کے لئے تشریف لائے اور انہوں نے حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا آپ ھمارے لیے بھی ایک دن خاص فرما دیں جس طرح آپ نے مردوں کے لئے کر رکھا ہے، چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائے ان کو وعظ فرمایا، تعلیم دی اور ان کو (مختلف) حکم دیئے، اور ان سے فرمایا : نہیں ہے کوئی عورت جس کے تین نومولود بچے دفن کردیئے گئے ہوں مگر وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے حجاب بنیں گے۔ ایک خاتون نے عرض کیا یارسول اللہ ! میرے تو دو بچے فوت ہوئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (ہاں) دو ، دو (بھی) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ بچے مراد ہیں جو ابھی نابالغ ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12238
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، علقه البخاري (١٢٥٠)، أخرجه من حديث أبي سعيد: البخاري (٧٣١٥)، ومسلم (٢٦٣٣)، ومن حديث أبي هريرة، مسلم (٢٦٣٢)، وأحمد (٧٣٥٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12238، ترقيم محمد عوامة 11998)
حدیث نمبر: 12239
١٢٢٣٩ - حدثنا سفيان بن عيينة (عن الزهري) (١) (عن) (٢) سعيد عن ⦗١٥٨⦘ أبي هريرة يرفعه قال: "من قدم ثلاثة من ولده لن يلج النار إلا (تَحِلَّةَ) (٣) القَسَمِ" (٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12239
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٢٥١) ومسلم (١٥٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12239، ترقيم محمد عوامة 11999)
حدیث نمبر: 12240
١٢٢٤٠ - حدثنا حفص بن غياث عن (طلق) (١) بن معاوية عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: أتت (النبي ﷺ امرأة) (٢) بصبي فقالت: يا رسول اللَّه، ادع اللَّه له فلقد دفنت ثلاثة، (قال: "دفنت ثلاثة؟) (٣) " قالت: نعم، قال: "لقد احتظرت بحِظَار شديد من النار" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک عورت اپنا بچہ لے کر خدمت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اس بچے کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں (اللہ اس کی عمر دراز کرے) تحقیق میں تین بچے دفنا چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تین بچے دفنا چکی ہو ؟ اس نے عرض کیا : ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ تیرے لیے آگ کی شدت سے رکاوٹ ہیں (قیامت کے دن) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12240
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٦٣٦)، والنسائي ٤/ ٢٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12240، ترقيم محمد عوامة 12000)
حدیث نمبر: 12241
١٢٢٤١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود (بن) (١) أبي هند (حدثنا) (٢) عبد اللَّه بن قيس قال: كنت عند أبي بردة ذات ليلة فدخل علينا الحارث بن (أقيش) (٣)، (فحدثنا) (٤) الحارث (ليلتئذٍ) (٥) أن رسول اللَّه ﷺ قال: "ما من (مسلمين) (٦) يموت لهما أربعةُ أفراط الا أدخلهما اللَّه الجنّة"، قالوا: يا رسول اللَّه ⦗١٥٩⦘ وثلاثة؛ قال: "وثلاثة"، قالوا: يا رسول اللَّه (واثنان؟ قال) (٧): "واثنان" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو بردہ کے پاس ایک رات بیٹھا ہوا تھا، حضرت حارث بن اقیش ہمارے پاس تشریف لائے اور اس رات ہمیں حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس مسلمان شوہر و بیوی کے چار چھوٹے بچے انتقال کر جائیں اللہ پاک ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! تین بچے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دو بچے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور دو بھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12241
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12241، ترقيم محمد عوامة 12001)
حدیث نمبر: 12242
١٢٢٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن قيس عن أبي رملة عن عبيد اللَّه بن مسلم عن معاذ بن جبل عن النبي ﷺ أنه قال: "أوجب ذو الثلاثة"، قالوا: وذو الاثنين يا رسول اللَّه قال: "وذو الاثنين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین چھوٹے بچے فوت ہوجانے والوں پر جنت واجب ہے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دو بچے والوں پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بچوں والوں بھی جنت واجب ہوچکی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12242
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12242، ترقيم محمد عوامة 12002)
حدیث نمبر: 12243
١٢٢٤٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد حدثنا القاسم (عن) (١) أبي أمامة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من مؤمنين يموت لهما ثلاثة (من) (٢) (الأولاد) (٣) لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهما اللَّه الجنة بفضل رحمته إياهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن مسلمان والدین کے تین چھوٹے نابالغ بچے فوت ہوچکے ہوں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل سے ان کو (والدین کو) جنت میں داخل فرمائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12243
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن زيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12243، ترقيم محمد عوامة 12003)
حدیث نمبر: 12244
١٢٢٤٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير حدثنا عثمان بن حكيم عن عمرو الأنصاري عن أم سليم (بنت) (١) ملحان وهي أم أنس أنها سمعت النبي ﷺ يقول: "ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة (من) (٢) أولاد لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهما اللَّه الجنة ⦗١٦٠⦘ بفضل رحمته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلیم فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ : جن مسلمان والدین کے تین چھوٹے نابالغ بچے فوت ہوچکے ہوں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل سے ان کو (والدین کو) جنت میں داخل فرمائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12244
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12244، ترقيم محمد عوامة 12004)
حدیث نمبر: 12245
١٢٢٤٥ - حدثنا عباد بن العوام عن موسى الجهني عن مجاهد عن عائشة قالت: من قدم ثلاثة من ولده صابرًا محتسبا حجبوه بإذن اللَّه من النار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس کے تین چھوٹے بچے اس حالت میں انتقال کر گئے کہ وہ صابر ہے اور ثواب کا امید وار ہے تو وہ اس کے لئے اللہ کے حکم سے آگ سے حجاب ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12245
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الطبراني في الأوسط (٦٨٤) ومسدد كما في المطالب (٧٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12245، ترقيم محمد عوامة 12005)
حدیث نمبر: 12246
١٢٢٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) هشام بن حسان عن الحسن قال: حدثني صعصعة بن معاوية قال: لقيت أبا ذر فقلت: حدثني حديثًا سمعته من رسول اللَّه ﷺ (فقال: [سمعت رسول اللَّه ﷺ) (٢) يقول: "ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة من (أولادهما) (٣) لم يبلغوا] (٤) (حنثًا) (٥) إلا أدخلهما اللَّه الجنة بفضل رحمته" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جن مسلمان والدین کے تین چھوٹے نابالغ بچے فوت ہوچکے ہوں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل سے ان کو (والدین کو) جنت میں داخل فرمائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12246
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه ابن حبان (٢٩٤٠)، وأحمد (٢١٣٤١)، والنسائي ٤/ ٢٤، والبخاري في الأدب (١٥٠)، والطبراني في الصغير (٨٩٥)، والبيهقي ٩/ ١٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12246، ترقيم محمد عوامة 12006)
حدیث نمبر: 12247
١٢٢٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا العوام بن حوشب قال: حدثني أبو محمد مولى عمر بن الخطاب عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيما مسلمين مضى لهما من أولادهما ثلاثة لم يبلغوا حنثًا إلا (أدخلهما) (١) اللَّه ⦗١٦١⦘ الجنة"، فقال أبو ذر: مضى لي اثنان يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أو اثنان"، فقال أبو المنذر سيد القراء: مضى لي واحد يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (وواحد) (٢) وذلك في الصدمة الأولى" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن مسلمان والدین کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے، حضرت ابو ذر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو بچے فوت ہوچکے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور دو میں بھی (جنت واجب ہے) حضرت ابو المنذر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا ایک بچہ فوت ہوچکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماتا ایک میں بھی اور (یہ تب ہے جب) مصیبت کے آغاز پر ہی صبر کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12247
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12247، ترقيم محمد عوامة 12007)
حدیث نمبر: 12248
١٢٢٤٨ - حدثنا شبابة عن شعبة عن معاوية بن قرة عن أبيه أن رجلًا كان يأتي النبي ﷺ ومعه ابن له فقال له رسول اللَّه ﷺ: "أتحبه؟ " (قال: نعم) (١)، فقال: "أحبك اللَّه كما (تحبه) (٢) "، قال: ففقده النبي ﷺ فقال: "ما فعل ابنك؟ " فقال: أشعرت أنه توفي؟ فقال له النبي ﷺ: "أما يسرك أنه لا تأتي بابًا من أبواب الجنة تستفتحه إلا جاء يسعى حتى (يفتحه) (٣) لك؟ " (فقيل) (٤): يا رسول اللَّه أله خاصة أم للناس عامة؟ قال: "لكم عامة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا چھوٹا بیٹا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اس سے محبت کرتا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے جس طرح تو اس سے محبت کرتا ہے، پھر (کچھ عرصہ بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کو گم پایا تو فرمایا : تیرے بیٹے کو کیا ہوا ؟ پھر فرمایا : کیا تو نے اس کی وفات کا اعلان کروایا تھا ؟ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر آئے اس کو کھلوانے کیلئے، مگر تیرا بیٹا دوڑتا ہوا آئے اور تیرے لیے جنت کا دروازہ کھلوا دے ؟ اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ صرف میرے لیے خاص ہے یا لوگوں کیلئے عام ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سب کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12248
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٥٥٩٥)، والنسائي ٤/ ٢٢، والحاكم ١/ ٣٨٤، والطيالسي (١٠٧٥)، والطبراني ١٩/ ٥٤، والبيهقي في الآداب (٩٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12248، ترقيم محمد عوامة 12008)
حدیث نمبر: 12249
١٢٢٤٩ - حدثنا مصعب بن المقدام حدثنا (مندل) (١) حدثنا الحسن بن الحكم عن أسماء بنت عابس عن أبيها عن عليّ قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن السقط ⦗١٦٢⦘ ليراغم ريه (إذا دخل) (٢) أبواه النار حتى يقال: أيها السقط (المراغم) (٣) ربه؛ (ارجع) (٤) فإني (أدخلت) (٥) (أبويك) (٦) الجنة"، قال: "فيجرهما (بسرره) (٧) حتى يدخلهما الجنة" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک جنین اپنے رب سے پناہ مانگے گا کہ اس کے والدین کو آگ میں داخل کیا جائے، یہاں تک کہ اس کو کہا جائے گا، اے اپنے رب سے پناہ مانگنے والے بچے ٹھہر جا : بیشک میں نے تیرے والدین کو جنت میں داخل کردیا ہے، اور فرمایا : وہ بچہ ان دونوں کو (والدین کو) ناف کاٹنے کی جگہ سے کھینچ کر جنت میں داخل کروا دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12249
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12249، ترقيم محمد عوامة 12009)
حدیث نمبر: 12250
١٢٢٥٠ - حدثنا خالد بن مخلد (حدثني) (١) يزيد بن عبد الملك النوفلي عن يزيد ابن رومان عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (لسقط) (٢) (أقدمه) (٣) بين يدي أحب إليّ من فارس أخلفه خلفي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھوٹا بچہ مقدم کیا جائے میرے آگے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ وہ شہسوار بن کر (میدان جہاد) میں میرے پیچھے آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ يزيد بن عبد الملك النوفي متروك، ويزيد بن رومان لم يسمع من أبي هريرة، أخرجه ابن ماجه (١٦٠٧)، وتمام (٨٨٤)، وأبو حاتم في المجروحين ٣/ ١٠٣، وابن عدي ٧/ ٢٦١، والعقيلي ٤/ ٣٨٤، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ٤/ ٢٩٢ (٦٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12250، ترقيم محمد عوامة 12010)
حدیث نمبر: 12251
١٢٢٥١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام بن حسان عن محمد بن سيرين قال: حدثتني امرأة كانت تأتينا يقال: لها (ماوية) (١) أنها دخلت على عبيد اللَّه بن معمر ⦗١٦٣⦘ وعنده رجل من أصحاب النبي ﷺ، (فحدث ذلك الرجل عبيد اللَّه بن معمر عن النبي ﷺ) (٢) أن امرأة أتته بصبي لها (فقالت) (٣): يا رسول اللَّه ادع (اللَّه) (٤) أن يبقيه فقد مضى لي ثلاثة، فقال لها رسول اللَّه ﷺ: " (أمنذ) (٥) أسلمت؟ " (قالت) (٦): نعم، قال: "جنة (حصينة) (٧) من النار"، إلا أنه قال لها: " (أمنذ) (٨) أسلمت؟ " (ثلاثًا) (٩) جنة حصينة من النار؛ قالت: فقال لي عبيد اللَّه: يا (ماوية) (١٠) تعالي فاسمعي هذا الحديث، (قال) (١١): (فسمعته) (١٢) ثم خرجت من عند عبيد اللَّه (فأتتنا) (١٣) (وحدثتنا) (١٤) به (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک عورت نے بیان کیا جو ہمارے پاس آئی تھی جس کا نام ماویہ تھا، وہ کہتی ہے کہ میں حضرت عبید اللہ بن معمر کی خدمت میں حاضر ہوئی ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی موجود تھے، اس صحابی نے بیان کا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو باقی رکھیں بیشک میرے تین بچے فوت ہوچکے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا جب سے تو مسلمان ہوئی ہے تب سے ؟ اس نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تیرے لیے آگ سے محفوظ ڈھال ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12251
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12251، ترقيم محمد عوامة 12011)