کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کافر یا قیدی ایک بار شھادت کا اقرار کرے اور پھر فوت ہو جائے تو کیا اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی
حدیث نمبر: 12231
١٢٢٣١ - حدثنا جرير (عن) (١) مغيرة (عن أصحابه) (٢) عن إبراهيم في السبي يسبى من أرض العدو قال: إذا (أقر) (٣) بالتوحيد (وبالسجدتين) (٤) صلِّي عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دریافت کیا گیا جس قیدی کو دشمن کی زمین سے پکڑا کیا گیا ہو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ توحید اور شہادتین کا اقرار کرتا ہو تو اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12231
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12231، ترقيم محمد عوامة 11991)
حدیث نمبر: 12232
١٢٢٣٢ - حدثنا جرير عن العلاء عن خيثمة قال: إذا صلى مرة صلِّي عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے ایک بار نماز ادا کی ہو تو اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12232، ترقيم محمد عوامة 11992)
حدیث نمبر: 12233
١٢٢٣٣ - حدثنا جرير عن أشعث عن الحسن قال: (إذا قال) (١) لا إله إلا اللَّه صُلّي (عليه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لے تو اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12233
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12233، ترقيم محمد عوامة 11993)
حدیث نمبر: 12234
١٢٢٣٤ - حدثنا شريك عن (عبد اللَّه) (١) بن عيسى (عن) (٢) عبد اللَّه بن (جبر) (٣) عن أنس بن مالك قال: كان شاب يهودي يخدم النبي ﷺ فمرض، فأتاه النبي ﷺ يعوده (فقال) (٤): " (أفتشهد) (٥) أن لا إله إلا اللَّه وأني رسول اللَّه"، قال: فجعل ينظر إلى أبيه فقال: قل كما يقول لك محمد، (فقال) (٦)، ثم مات، (فقال) (٧) النبي ﷺ: "صلوا على صاحبكم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نوجوان تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس یہودی نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اس کے والد نے کہا اسی طرح کہو جیسا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے ہیں، اس نے اسی طرح کہا اور اس کا انتقال ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12234
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (١٣٧٣٦)، والنسائي في الكبرى (٧٥٠٠)، والحاكم ٦/ ٥١١ و ٤/ ٣٢٣، وأبو يعلى (٤٣٠٦)، وأصله عند البخاري (٣٥٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12234، ترقيم محمد عوامة 11994)
حدیث نمبر: 12235
١٢٢٣٥ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سهل السراج قال: (سمعت) (١) محمد بن سيرين سئل عن قوم أقبلوا (بسبي) (٢)، فكانوا (إذا) (٣) (أمروهم) (٤) أن ⦗١٥٦⦘ يصلوا (صلوا) (٥)، وإذا (لم يأمروهم) (٦) لم يصلوا. فمات رجل منهم فقال: تبين لكم أنه من أصحاب الجحيم؟ (فقالوا) (٧): لا) (٨) (٩) ما تبين لنا، قال: اغسلوه وكفنوه وحنطوه وصلوا عليه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن سراج فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگ تیری بنا کر لائے گئے۔ ان کی حالت پر کہی کہ اگر انہیں نماز کا کہا جاتا تو نماز پڑھتے، اگر نہ کہا جاتا تو نہ پڑھتے۔ ان میں سے ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے، لیکن اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ؟ فرمایا کیا تم پر ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ جہنمی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں تو فرمایا اس کو غسل دو ، کفن پہناؤ، خوشبو لگاؤ اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12235
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12235، ترقيم محمد عوامة 11995)
حدیث نمبر: 12236
١٢٢٣٦ - حدثنا إسماعيل بن علية عن محمد بن زياد عن (أبي) (١) عبد اللَّه (الشقري) (٢) قال: قال رجل عند الشعبي: إني أجلب الرقيق فيموت بعضهم (أفأصلي) (٣) عليه؟ فقال: إن صلَّى فصلِّ عليه، و (إن) (٤) لم يصل فلا تصل عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایک شخص نے حضرت شعبی سے عرض کیا میں غلاموں کو جمع کرتا ہوں ان میں سے کوئی مرجاتا ہے تو کیا میں اس کی نماز جنازہ ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ نماز ادا کرتا ہو اس کی نماز جنازہ ادا کرو وگرنہ مت ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12236
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12236، ترقيم محمد عوامة 11996)
حدیث نمبر: 12237
١٢٢٣٧ - حدثنا حماد بن (١) خالد عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: إذا (تشهد) (٢) الكافر (وهو) (٣) في السوق صُلي عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کافر حالت نزع میں شھادت کا اقرار کرے تو اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12237
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12237، ترقيم محمد عوامة 11997)