کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص اگر یہ وصیت کرے کہ مجھے فلاں جگہ دفن کیا جائے
حدیث نمبر: 12215
١٢٢١٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام قال: أوصى (عقبة) (١): أن لا يقبر في البقيع وقال: إن كان مؤمنًا فما أحب أن أضيق عليه، وإن كان فاجرًا فما أحب ⦗١٥١⦘ (أصاحبه) (٢) فيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے وصیت فرمائی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن نہ کرنا، کیونکہ اگر مؤمن ہے تو میں پسند نہیں کرتا کہ اس پر تنگی کروں اور اگر فاجر ہو تو میں نہیں چاہتا کہ اس بارے میں ان سے مزاحمت کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12215
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12215، ترقيم محمد عوامة 11976)
حدیث نمبر: 12216
١٢٢١٦ - حدثنا مالك بن إسماعيل حدثنا شريك عن محمد بن عبد اللَّه عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه بن مسعور قال: ادفنوني (في) (١) قبر عثمان ابن مظعون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی تھی کہ مجھے حضرت عثمان بن مظعون کی قبر میں دفن کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12216
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12216، ترقيم محمد عوامة 11977)
حدیث نمبر: 12217
١٢٢١٧ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن رجل أن خيثمة أوصى أن يدفن في مقبرة فقراء (قومه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت خیثمہ نے وصیت فرمائی تھی کہ مجھے میری قوم کے فقراء کے قریب دفن کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12217
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12217، ترقيم محمد عوامة 11978)
حدیث نمبر: 12218
١٢٢١٨ - حدثنا أبو أسامة حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: قالت عائشة لما حضرتها الوفاة: ادفنوني مع أزواج النبي ﷺ، فإني كنت (أحدثت) (١) بعده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا مجھے دیگر ازواج مطہرات کے ساتھ دفن کرنا، مجھے یہ بات بعد میں بتائی گئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12218
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12218، ترقيم محمد عوامة 11979)
حدیث نمبر: 12219
١٢٢١٩ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن عمرو بن ميمون أن عمر قال: لعبد اللَّه بن عمر: اذهب إلى عائشة فسلم وقل يستأذن عمر بن الخطاب أن يدفن مع صاحبيه، فأتاها عبد اللَّه فوجدها قاعدة تبكي فسلم ثم قال: يستأذن عمر بن الخطاب أن يدفن مع صاحبيه، فقالت: قد كنت واللَّه أريده (لنفسي) (١) ولأوثرنه اليوم على نفسي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ ان کو میرا سلام دو اور عرض کرو عمر اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اس کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے، حضرت عبد اللہ جب ان کے پاس آئے ان کو بیٹھ کر روتے ہوئے پایا، آپ نے ان پر سلام عرض کیا اور فرمایا حضرت عمر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! وہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن میں آج حضرت عمر کو اپنے نفس پر ترجیح دیتی ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12219
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12219، ترقيم محمد عوامة 11980)