کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی شخص کا قریبی رشتہ دار مشرک مر جائے تو کیا وہ اس کے جنازے میں شریک ہو گا؟
حدیث نمبر: 12201
١٢٢٠١ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق (١) قال: قال علي: لما مات أبو طالب أتيت النبي ﷺ فقلت: يا رسول (اللَّه) (٢) إن عمك الضال قد مات فقال (لي) (٣): "اذهب فواره ولا تحدثن شيئًا حتى تأتيني"، (قال) (٤): فانطلقت فواريته ثم رجعت إليه وعلي أثر التراب والغبار فدعا لي بدعوات ما يسرني أن لي بها ما على الأرض من شيء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ کا گمراہ چچا مرگیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور ان کو ڈھانپ دو اور جب تک میرے پاس نہ آجانا کچھ نہ کرنا میں گیا اور ان کو ڈھانپ دیا پھر میں واپس آیا تو میرے اوپر مٹی اور گرد و غبار کے آثار تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ دعائیں دیں جو میرے لیے دنیا کی چیزوں کے مل جانے سے زیادہ قابل مسرت ہیں۔
حدیث نمبر: 12202
١٢٢٠٢ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن ناجية عن علي عن النبي ﷺ بنحوه وقال: فأمرني بالغسل] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ سے اسی طرح منقول ہے اور فرماتے ہیں کہ مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔
حدیث نمبر: 12203
١٢٢٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن الشعبي قال: ماتت أم الحارث ابن أبي ربيعة وهي نصرانية فشهدها أصحاب محمد ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ام الحارث بن ابی ربیعہ جو نصرانیہ تھی اس کا انتقال ہوگیا تو اس کے جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ شریک ہوئے۔
حدیث نمبر: 12204
١٢٢٠٤ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: ماتت أم الحارث وكانت نصرانية فشهدها أصحاب (رسول اللَّه) (١) ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 12205
١٢٢٠٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن محمد بن (أبي) (١) إسماعيل عن عامر بن شقيق عن أبي وائل قال: ماتت أمي وهي نصرانية فأتيت عمر فذكرت ذلك له فقال: اركب (دابة) (٢) وسر أمامها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں میری والدہ کا انتقال ہوگیا جو کہ نصرانیہ تھی، میں حضرت عمر کے پاس آیا اور ان کو بتلایا، آپ نے فرمایا : سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے آگے خاموشی سے چلو۔
حدیث نمبر: 12206
١٢٢٠٦ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب قال: ماتت أم رجل من (ثقيف) (١) وهي نصرانية (فسأل) (٢) ابن (مغفل) (٣) فقال: إنّي أحب أن (أ) (٤) حضرها ولا أتبعها قال: اركب دابة وسر أمامها علوة فإنك إذا سرت أمامها فلست معها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک شخص کی والدہ کا انتقال ہوگیا جو کہ نصرانیہ تھی۔ اس نے حضرت ابن معقل سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا مجھے تو یہ پسند ہے کہ اس کے جنازے میں حاضر ہوا جائے لیکن اس کے جنازے کے ساتھ (پیچھے) نہ چلا جائے، پھر فرمایا : سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے آگے تین سے چار سو گز چلو کیونکہ جب تم اس کے آگے چلو گے تو اس کے ساتھ شمار نہیں ہو گے۔
حدیث نمبر: 12207
١٢٢٠٧ - حدثنا وكيع عن شريك عن عبد اللَّه بن شريك قال: سمعت (ابن) (١) عمر سئل عن الرجل المسلم يتبع أمه النصرانية تموت؟ قال: يتبعها (و) (٢) يمشي أمامها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شریک فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اس کی نصرانیہ ماں فوت ہوگئی ہے اس کے جنازے کے ساتھ جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ تو جائے لیکن اس کے جنازے کے آگے چلے۔
حدیث نمبر: 12208
١٢٢٠٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: مات رجل نصراني وله ابن مسلم فلم يتبعه فقال ابن عباس: كان ينبغي له أن يتبعه ويدفنه ويستغفر له في حياته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی کا انتقال ہوا اس کا ایک مسلمان بیٹا تھا جو اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مناسب تھا کہ وہ اپنے باپ کے جنازے کے ساتھ جاتا اس کو دفن کرتا اور اپنی زندگی میں اس کے لئے دعائے مغفرت کرتا۔
حدیث نمبر: 12209
١٢٢٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: لما مات أبو طالب (جاء) (١) (علي) (٢) إلى النبي ﷺ فقال: إن عمك الشيخ الكافر قد مات فما ترى فيه؟ قال: "أرى أن تغسله (وتنحيه) " (٣)، وأمره بالغسل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا آپ کا کافر چچا فوت ہوگیا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو غسل دو اور دفنا دو ، اور ان کو (بعد میں) غسل کرنے کا حکم فرمایا۔
حدیث نمبر: 12210
١٢٢١٠ - حدثنا ابن فضيل عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: مات رجل نصراني (فوكله) (١) ابنه إلى أهل دينه، فذكر ذلك لابن عباس فقال: ما كان عليه لو مشى معه (وأجنه) (٢) (واستغفر) (٣) له ما كان حيًا، ثم تلا: ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ﴾ (الآية) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی شخص کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے نے اس کو ان کے مذہب والوں کے سپرد کردیا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہ تھا اگر یہ اس کے ساتھ جاتا اور اس کو دفناتا اور اپنی زندگی میں اس کے لیے دعائے مغفرت کرتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إبْرَاہِیمَ لأَبِیہِ }۔