حدیث نمبر: 12173
١٢١٧٣ - حدثنا وكيع بن (الجراح) (١) عن (شعبة) (٢) عن محمد بن جحادة قال: سمعت أبا صالح يحدث بعد ما كبر عن ابن عباس قال: لعن رسول اللَّه ﷺ زائرات القبور والمتخذات عليها المساجد والسرج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والیوں، ان کو سجدہ گاہ (مساجد) بنانے والیوں اور ان پر چراغاں کرنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 12174
١٢١٧٤ - حدثنا عبدة بن سليمالن عن هشام عن أبيه عن عائشة أن أم سلمة ذكرت للنبي ﷺ نيسة (قد) (١) (رأتها في أرض الحبشة يقال لها مارية، فذكرت له ما رأت فيها من الصور فقال رسول اللَّه ﷺ) (٢): "أولئك قوم إذا مات فيهم العبد الصالح أو الرجل الصالح بنوا على (قبره) (٣) مسجدًا وصوروا فيه تلك الصور، فأولئك شرار الخلق عند اللَّه ﷿" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کنیسہ کا ذکر فرمایا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا، اور ان تصویروں کا بھی ذکر فرمایا جو اس میں دیکھی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایسی قوم ہیں جب ان میں کوئی شخص انتقال کرتا ہے تو یہ اس کی قبر پر مسجد (سجدہ گاہ) بنا لیتے ہیں اور اس میں اس کی تصویریں لگا دیتے ہیں یہی لوگ اللہ کے نزدیک مخلوق میں سب سے بدتر ہیں۔
حدیث نمبر: 12175
١٢١٧٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقيق عن عبد اللَّه قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن من (شرار) (١) الناس من (تدركهم) (٢) ⦗١٤١⦘ الساعة وهم أحياء ومن يتخذ القبور مساجد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں سب سے بدتر لوگ وہ ہیں جن کو قیامت نے اس حال میں پایا کہ وہ زندہ ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔
حدیث نمبر: 12176
١٢١٧٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عمران (عن ابن سيرين) (١) أنه (كره) (٢) أن يزار (القبر) (٣) ويصلَّى عنده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین قبروں کی زیارت کرنے اور ان کے پاس نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 12177
١٢١٧٧ - حدثنا أبو (خالد) (١) الأحمر عن ابن عجلان عن (سهيل) (٢) عن (حسن) (٣) بن (حسن) (٤) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تتخذوا قبري عيدًا ولا بيوتكم قبورًا، وصلوا علي حيثما كنتم فإن صلاتكم تبلغني" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن حسن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری قبر کو عید گاہ (سجدہ گاہ) نہ بنانا، اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ، اور تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود پڑھو، بیشک تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12178
١٢١٧٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن زيد بن أسلم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم لا تجعل قبري وثنًا يصلى له، (اشتد) (١) غضب اللَّه على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنا جس کی عبادت کی جائے، بشکب ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب و غصہ ہوا جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجد گاہ بنایا۔
حدیث نمبر: 12179
١٢١٧٩ - حدثنا أسباط بن محمد عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لعن اللَّه أقوامًا اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا۔
حدیث نمبر: 12180
١٢١٨٠ - حدثنا (وكيع عن) (١) سفيان عن (أبي) (٢) (سنان) (٣) عن عبد اللَّه بن الحارث قال: قال عمر: (٤) لأنا (٥) أضلّ من (زائر) (٦) القبور (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں یقینا ہم نے عبادت کے طور پر قبروں کی زیارت کرنے والے سے بڑھ کر کوئی گمراہ شخص نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 12181
١٢١٨١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون زيارة القبور.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ (صحابہ کرام ) زیارت قبور کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 12182
١٢١٨٢ - حدثنا (قبيصة) (١) عن سفيان عن عبد اللَّه بن عثمان عن عبد الرحمن ابن (بهمان) (٢) عن عبد الرحمن بن (حسان) (٣) بن ثابت عن أبيه قال: لعن رسول اللَّه ﷺ زائرات القبور (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حسان بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 12183
١٢١٨٣ - حدثنا الفضل بن دكين (حدثنا) (١) سفيان عن مجالد عن الشعبي قال: لولا أن رسول اللَّه ﷺ نهى عن زيارة القبور لزرت قبر ابنتي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں اپنی بیٹی کی قبر کی زیارت کرتا۔