حدیث نمبر: 12129
١٢١٢٩ - حدثنا أبو بكر (١) عن أبي حصين عن أبي سعيد قال: كنت أمشي مع عبد اللَّه في الجبانة فقال: لئن أطأ على جمرة حتى تطفأ أحب إلي من أن أطأ على قبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کے ساتھ جبانہ میں چل رہا تھا، آپ نے فرمایا : میں انگاروں پر چلوں جس سے وہ بجھ جائیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں قبروں کو روندوں۔
حدیث نمبر: 12130
١٢١٣٠ - حدثنا ابن علية عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي بكرة قال: لئن أطأ على جمرة حتى تطفأ أحب إليَّ من أن أطأ على قبر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ انگاروں پر چل چل کر ان کو بجھا دیا جائے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ قبر کو پاؤں سے روندا جاؤں۔
حدیث نمبر: 12131
١٢١٣١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن سالم (أبي) (١) عبد اللَّه (البراد) (٢) قال: سمعت ابن مسعود يقول: لئن أطا على جمرة أحب إليَّ من أن أطا على (قبر) (٣) رجل مسلم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم ابی عبد اللہ البراد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے ہیں میں انگاروں پر چلوں جس سے وہ بجھ جائیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں کسی مسلمان کی قبر کو روندوں۔
حدیث نمبر: 12132
١٢١٣٢ - حدثنا شبابة عن ليث (بن سعد) (١) عن يزيد أن أبا الخير أخبره أن عقبة ابن عامر قال: لئن أطأ على جمرة أو على حد سيف حتى (يخطف) (٢) رجلي أحب إليَّ من أن أمشي على قبر رجل مسلم، وما أبالي أفي (القبور) (٣) قضيت حاجتي أم في السوق بين ظهرانيه (و) (٤) الناس ينظرون (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں آگ کے انگاروں پر یا تلوار کی دھار پر چلوں یہاں تک کہ میرے پاؤں جھلس جائیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔ میرے نزدیک قبرستان میں رفع حاجت کرنا اور بازار میں لوگوں کے درمیان جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوں برابر ہے۔
حدیث نمبر: 12133
١٢١٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما كانا يكرهان القعود (عليها) (١) والمشي عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد قبروں پر بیٹھنے اور ان کے اوپر سے چلنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 12134
١٢١٣٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمران بن حدير عن أبي العلاء بن الشخيِّر قال: (يا) (١) فلان؛ تمشون على قبوركم؟ قلت: نعم، (قال: فـ) (٢) ـكيف تمطرون؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت العلاء بن الشخیر نے فرمایا : فلاں تم اپنی قبروں کے اوپر سے گزرتے (چلتے) ہو ؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا : پھر تم پر بارش کس طرح برسائی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 12135
١٢١٣٥ - حدثنا (يحيى) (١) بن سعيد عن محمد بن أبي يحيى عن أبيه قال: كنت (اتتبع) (٢) أبا هريرة في (الجنائز) (٣) فكان (يتقصى) (٤) القبور قال: لئن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه ثم قميصه ثم (إزاره) (٥) حتى (تخلص) (٦) إلى جلده أحب إليَّ من أن يجلس على قبر (٧).
حدیث نمبر: 12136
١٢١٣٦ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه كان يكره القعود على (القبور) (١) وأن يمشى عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول قبروں پر بیٹھنے اور ان کے اوپر سے گذرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12137
١٢١٣٧ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يقعد عليها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔