کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لحد پر بانس، سرکنڈے رکھے جائیں گے
حدیث نمبر: 12079
١٢٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) مروان بن معاوية عن عثمان بن الحارث عن الشعبي أن النبي ﷺ جعل على لحده طن قصب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لحد مبارک پر بانسوں کی گٹھری رکھی گئی۔
حدیث نمبر: 12080
١٢٠٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن عاصم عن أبي وائل عن عمرو بن شرحبيل أنه قال: اطرحوا علي (أطنانًا) (١) من قصب فإني رأيت (المهاجرين) (٢) يستحبونه على ما سواه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن شرحبیل فرماتے ہیں (میرے مرنے کے بعد) مجھ پر بانسوں کی گٹھری رکھ دینا، بیشک میں نے دیکھا ہے کہ مہاجرین (صحابہ کرام ) دوسری چیزوں سے زیادہ اس کو پسند فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12081
١٢٠٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره أن يجعل في اللحد (شيء) (١) إلا لبن نظيف، قال: وكان يكره الآجر وقال: إن (يجدوا) (٢) لبنًا فقصب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم اس بات کو ضروری سمجھتے تھے کہ قبر کے اندر پاک اینٹ استعمال کی جائے۔ اور فرماتے ہیں کہ وہ کچی اینٹوں کے رکھنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے اگر اینٹیں نہ ملیں تو لکڑی (بانس) سے کام چلا لو۔
حدیث نمبر: 12082
١٢٠٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة أنه أوصى قال: اجعلوا على قبري طنًا من قصب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت میسرہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری قبر پر لکڑیوں (بانسوں) کی گٹھری رکھ دینا۔
حدیث نمبر: 12083
١٢٠٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا قرة بن سليمان عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا بالساج والقصب وكره الآجر يعني في القبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ قبر پر ساگوان کی یا بانس کی لکڑی رکھی جائے۔ لیکن پکی اینٹوں کو ناپسند سمجھتے تھے۔