کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عورت کو کتنے لوگ قبر میں اتاریں گے اور عورت کا قریبی کون ہے جو اس کا زیادہ حقدار ہو
حدیث نمبر: 12004
١٢٠٠٤ - حدثنا حفص عن عاصم عن حفصة قالت: أوصت عائشة فقالت: ⦗٩٤⦘ إذا (سوَّى) (١) (علَيَّ) (٢) ذكوان قبري فهو حر [(أرادت) (٣) أن يدخل قبرها، وكان ذكوان قد دخل] (٤) قبرها وهو مملوك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ نے وصیت فرمائی تھی کہ جس وقت ذکوان میری قبر برابر کر دے اس وقت وہ آزاد ہے، انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ ذکوان ان کو قبر میں اتارے، (ان کی وفات کے بعد) حضرت ذکوان نے ان کو قبر میں اتارا اور اس وقت وہ غلام تھے۔
حدیث نمبر: 12005
١٢٠٠٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن العلاء (بن) (١) المسيب عن أبيه قال: يلي سفلة المرأة في القبر أقربهم إليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت العلاء بن المسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عورت کی جانب پشت پر وہی شخص ہوگا جو اس کا سب سے قریبی ہو۔
حدیث نمبر: 12006
١٢٠٠٦ - حدثنا حفص ووكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن عبد الرحمن بن أبزى قال: ماتت زينب بنت جحش فكبر عليها عمر أربعًا، ثم سأل أزواج النبي ﷺ من يدخلها في قبرها؟ فقلن: من كان يدخل عليها في حياتها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ جب حضرت زینب بنت جحش کا انتقال ہوا تو حضرت عمر نے ان کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں اور پھر ازواج مطہرات سے دریافت فرمایا کہ ان کو قبر میں کون داخل کرے ؟ انہوں نے فرمایا جو زندگی میں ان کے پاس آیا کرتا تھا وہی داخل کرے۔ (جس رشتہ دار سے ان کا پردہ نہ تھا) ۔
حدیث نمبر: 12007
١٢٠٠٧ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: (أخبرنا) (١) أشعث عن الحسن قال: يدخل الرجل قبر امرأته ويلي سفلتها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ آدمی (شوہر) عورت کو قبر میں اتارے گا اور اس عورت کے زیریں حصہ کی طرف وہ خود ہوگا۔