کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں
حدیث نمبر: 11757
١١٧٥٧ - حدثنا هشيم عن عثمان (بن) (١) حكيم قال: (حدثنا) (٢) خارجة بن زيد عن عمه يزيد بن ثابت أن رسول اللَّه ﷺ صلى على قبر أمرأة فكبر أربعًا (٣).
حدیث نمبر: 11758
١١٧٥٨ - حدثنا سعيد بن يحيى عن سفيان بن حسين عن الزهري عن أبي أمامة ابن سهل عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ (صلى) (١) على قبر امرأة فكبر أربعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خاتون کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیرات کہیں۔
حدیث نمبر: 11759
١١٧٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن (سليم بن حيان) (١) عن سعيد بن (ميناء) (٢) عن جابر بن عبد اللَّه أن النبي ﷺ صلى على (أصحمة) (٣) النجاشي فكبر عليه أربعًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی، اور اس میں چار تکبیرات پڑھی۔
حدیث نمبر: 11760
١١٧٦٠ - [حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد أن رسول اللَّه ﷺ خرج إلى البقيع فصلى على النجاشي فكبر عليه أربعًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع کی طرف نکلے اور نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11761
١١٧٦١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن النجاشي قد مات" فخرج رسول اللَّه ﷺ (وأصحابه) (١) إلى البقيع، (وصففنا) (٢) خلفه، وتقدم رسول اللَّه ﷺ فكبر أربع تكبيرات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نجاشی فوت ہوگیا ہے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ بقیع کی طرف نکلے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے آگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار تکبیرات کہیں۔
حدیث نمبر: 11762
١١٧٦٢ - حدثنا حفص بن غياث ووكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن عبد الرحمن بن أبزي قال: ماتت زينب بنت جحش (فكبر) (١) عليها عمر (أربعًا) (٢)، ثم سأل أزواج النبي ﷺ من (يدخلها) (٣) قبرها؟ فقلن: من كان يدخل عليها في حياتها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہں ھ کہ حضرت زینب بنت جحش کا انتقال ہوا تو حضرت عمر نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھیں، پھر ازواج مطہرات سے دریافت کیا کہ ان کو قبر میں کون اتارے ؟ انہوں نے فرمایا : جو ان کی زندگی میں ان کے پاس آیا کرتا تھا۔ (جس کا ان سے پردہ نہیں تھا وہ) ۔
حدیث نمبر: 11763
١١٧٦٣ - حدثنا حفص بن غياث عن (عبد الرحمن) (١) بن (سلع) (٢) عن (عبد خير) (٣) (قال) (٤): قبص عليّ وهو (يكبر) (٥) أربعًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدخیر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس حال میں کہ آپ نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11764
١١٧٦٤ - حدثنا حفص عن حجاج عن عمير بن سعيد قال: صليت خلف علي على يزيد بن المكفف فكبر عليه أربعًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے حضرت یزید بن المکفف کی نماز جنازہ پڑھی۔ آپ نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11765
١١٧٦٥ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن حجاج عن عمير عن علي مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 11766
١١٧٦٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: سئل عبد اللَّه عن التكبير على (الجنائز) (١) (فقال) (٢): كل ذلك قد صنع ورأيت الناس قد أجمعوا على أربع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ سے نماز جنازہ کی تکبیرات کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ جنازے میں ہر طرح کا عمل کیا گیا ہے اور میں نے لوگوں کو (صحابہ کرام ) کو چار تکبیرات پر جمع پایا۔
حدیث نمبر: 11767
١١٧٦٧ - حدثنا وكيع عن (مسعر و) (١) عن سفيان وشعبة عن علي بن الأقمر عن أبي عطية قال: قال عبد اللَّه: التكبير على الجنائز (أربع تكبيرات) (٢) (بتكبيرة الخروج) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں چار تکبیرات ہیں تکبیر خروج سمیت۔
حدیث نمبر: 11768
١١٧٦٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن مهاجر (أبي) (١) الحسن قال: صليت خلف البراء على جنازة فكبر أربعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہاجر ابی الحسن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی آپ نے اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حدیث نمبر: 11769
١١٧٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى (بن) (١) علي عن أبيه عن عقبة بن عامر قال: سأله رجل عن (التكبير) (٢) على الجنازة فقال: أربعًا، فقلت الليل والنهار سواء؟ قال: فقال: الليل والنهار سواء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر سے ایک شخص نے دریافت کیا جنازے میں کتنی تکبیرات ہیں ؟ آپ نے فرمایا چار، میں نے عرض کیا دن اور رات برابر ہیں ؟ آپ نے فرمایا دن اور رات برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 11770
١١٧٧٠ - حدثنا وكيِع عن سفيان عن زيد بن طلحة قال: شهدت ابن عباس كبر على (جنازة) (١) أربعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن طلحہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا آپ نے جنازے پر چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11771
١١٧٧١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن ثابت (بن) (١) عبيد (أن) (٢) زيد بن ثابت كبر أربعًا وأن أبا هريرة كبر أربعًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت عبید فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھا کرتے تھے، اور حضرت ابوھریرہ بھی چار تکبیرات پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11772
١١٧٧٢ - حدثنا حفص بن غياث عن أبي (العنبس) (١) عن أبيه قال: صليت خلف أبي هريرة على جنازة فكبر عليها أربعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العنبس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی آپ نے اس پر چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11773
١١٧٧٣ - حدثنا حفص (عن) (١) عطية (بن) (٢) (خليفة) (٣) ⦗٤٠⦘ (أبي) (٤) روق عن مولى للحسن بن علي أن الحسن بن علي (صلى على عليٍّ) (٥) فكبر (عليه) (٦) أربعًا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام سے مروی ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11774
١١٧٧٤ - [حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن نافع أن ابن عمر كان لا يزيد على أربع تكبيرات على الميت] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازہ میں چار تکبیرات سے زیادہ نہ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 11775
١١٧٧٥ - حدثنا عباد بن العوام (عن حجاج) (١) عن عثمان بن عبد اللَّه بن (وهب) (٢) عن زيد بن ثابت مثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت سے بھی اسی کے مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 11776
١١٧٧٦ - حدثنا أبو (بكر) (١) قال: ثنا أبو معاوية (عن) (٢) الأعمش عن يزيد بن أبي زياد عن عبد اللَّه بن (معقل) (٣) (بن مقرن) (٤) قال: كبّر عليّ في سلطانه ⦗٤١⦘ أربعًا، أربعًا (هاهنا) (٥) إلا على سهل بن حنيف فإنه كبر عليه ستًا ثم التفت إليهم فقال: إنه بدري (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نے اپنی خلافت میں ہر نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھیں۔ سوائے حضرت سھل بن حنیف کے ان پر چھ تکبیرات پڑھیں۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : (میں نے چھ تکبیرات اس لیے پڑھی ہیں) کیونکہ یہ بدری صحابی ہیں۔
حدیث نمبر: 11777
١١٧٧٧ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) مغيرة عن إبراهيم عن ابن مسعود قال: كنا نكبر على الميت خمسًا (و) (٢) ستًا ثم اجتمعنا على أربع تكبيرات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم نماز جنازہ میں پانچ یا چھ تکبیرات کہا کرتے تھے، پھر ہم سب چار پر متفق ہوگئے۔ (اجماع چار پر ہوگیا) ۔
حدیث نمبر: 11778
١١٧٧٨ - حدثنا هشيم (عن) (١) ابن عون (أن) (٢) محمدًا كبر أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11779
١١٧٧٩ - حدثنا هشيم عن عمران بن (أبي) (١) عطاء قال: شهدت وفاة ابن (عباس) (٢) (فوليه) (٣) ابن الحنفية فكبر عليه أربعًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن ابو عطاء فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات پر حاضر ہوا تو حضرت ابن الحنفیہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11780
١١٧٨٠ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز أنه كان يكبر على الجنازة أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ابن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11781
١١٧٨١ - حدثنا أبو معاوية عن الهجري قال: صليت مع عبد اللَّه بن أبي أوفى على جنازة فكبر عليها أربعًا، ثم قام (هنيهة) (١) حتى ظننت أنه (يكبر) (٢) خمسًا، ثم سلم فقال: أكنتم ترون أني أكبر خمسًا؛ (إنما) (٣) قمت كلما رأيت رسول اللَّه ﷺ قام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الھجری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، آپ نے اس میں چار تکبیرات پڑھیں ، پھر تھوڑی دیر کھڑے رہے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر آپ نے سلام پھیرا اور فرمایا : کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا ؟ میں اسی طرح کھڑا رہا جس طرح میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑا دیکھا۔
حدیث نمبر: 11782
١١٧٨٢ - حدثنا علي بن مسهر عن الوليد بن عبد اللَّه بن جميع قال: رأيت إبراهيم صلى على جنازة فكبر أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن جمیع فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 11783
١١٧٨٣ - حدثنا إسحاق (بن) (١) منصور عن (عمر) (٢) بن (أبي) (٣) زائدة قال: صليت خلف قيس بن أبي حازم على جنازة فكبر أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ابی زائدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قسَ بن ابی حازم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی آپ نے اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حدیث نمبر: 11784
١١٧٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن العلاء عن عمرو بن مرة قال: قال عمر: كل قد فعل؛ (فتعالوا) (١): نجتمع على أمر يأخذ به من بعدنا فكبروا على الجنازة أربعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا : سب کام (مکمل) ہوچکے، آ جاؤ ہم ایسے معاملہ پر اجماع کریں جس سے ہمارے بعد والے دلیل بنا سکیں۔ پھر سب نے جنازہ پر چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11785
١١٧٨٥ - [حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمرو بن مهاجر قال: صليت خلف واثلة فكبر أربعًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مہاجر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت واثلہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی آپ نے چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11786
١١٧٨٦ - [حدثنا جعفر بن عون عن أبي الخصيب أن سويدًا صلى على جنازة فكبر أربعًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خصیب فرماتے ہیں کہ حضرت سوید نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات پڑھیں۔
حدیث نمبر: 11787
١١٧٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عامر بن شقيق عن أبي وائل قال: جمع عمر الناس فاستشارهم في التكبير على الجنازة فقال بعضهم: كبر رسول اللَّه خمسًا، وقال بعضهم: كبر سبعًا، وقال بعضهم: كبر أربعًا، (قال) (١): فجمعهم على أربع تكبيرات كأطول الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے صحابہ کرام کو جمع فرمایا اور ان سے نماز جنازہ کی تکبیرات کے بارے میں مشورہ کیا (رائے دریافت کی) ۔ ان میں سے بعض نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانچ تکبیریں پڑھا کرتے تھے اور بعض نے فرمایا سات تکبیرات پڑھا کرتے اور بعض نے فرمایا چار تکبیرات پڑھا کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان سب کا چار تکبیرات پر اجماع ہوگیا۔
حدیث نمبر: 11788
١١٧٨٨ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن يزيد قال: قال إبراهيم: اختلف أصحاب رسول اللَّه ﷺ في التكبير على الجنازة ثم اتفقوا بعد على أربع تكبيرات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کا نماز جنازہ کی تکبیرات کے بارے میں اختلاف تھا، پھر سب کا چار تکبیرات پر اتفاق ہوگیا۔