حدیث نمبر: 11715
١١٧١٥ - حدثنا حفص بن غياث عن (أشعث) (١) عن الشعبي قال: في التكبيرة الأولى يبدأ بحمد اللَّه والثناء عليه، والثانية صلاة على النبي ﷺ، والثالثة دعاء للميت، والرابعة للتسليم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ پہلی تکبیر میں ابتدا کرے گا حمد وثنا سے ، دوسری تکبیر میں درود پڑھے گا اور تیسری تکبیر میں میت کے لیے دعا اور چوتھی کے بعد سلام۔
حدیث نمبر: 11716
١١٧١٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء بن المسيب عن (أبيه عن) (١) علي أنه كان إذا صلى على ميت يبدأ (فيحمد) (٢) اللَّه، ويصلي على النبي ﷺ ثم يقول: اللهم اغفر (لأحيائنا) (٣) وأمواتنا، وألف بين قلوبنا، وأصلح ذات بيننا، واجعل قلوبنا على قلوب خيارنا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن المسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب نماز جنازہ پڑھتے تو اللہ کی حمد سے ابتدا کرتے پھر درود پڑھتے پھر یہ دعا پڑھتے۔ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأَحْیَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا عَلَی قُلُوبِ خِیَارِنَا۔
حدیث نمبر: 11717
١١٧١٧ - حدثنا عبدة بن سليمان (عن يحيى) (١) (بن سعيد) (٢) (عن سعيد) (٣) المقبري أن رجلًا سأل أبا هريرة (فقال) (٤): كيف (نصلي) (٥) على الجنازة؛ فقال أبو هريرة: أنا لعمر اللَّه أخبرك: أكبّر ثم (أصلي) (٦) على النبي ﷺ ثم أقول: ⦗٢٦⦘ اللهم عبدك أو أمتك كان يعبدك لا يشرك بك شيئًا، وأنت أعلم به، إن كان محسنًا فزد في إحسانه، وإن كان محطئًا فتجاوز عنه، اللهم لا تفتنا بعده ولا تحرمنا أجره (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی المقبری فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ نماز جنازہ کیسے ادا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں بتاؤں گا، تکبیر پڑھتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھتا ہوں، پھر میں یہ دعا پڑھتا ہوں۔ اللَّہُمَّ عَبْدُک ، أَوْ أَمَتُک، کَانَ یَعْبُدُک لاَ یُشْرِکُ بِکَ شَیْئًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ، إِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِی إحْسَانِہِ ، وَإِنْ کَانَ مُخْطِئًا فَتَجَاوَزْ عَنْہُ ، اللَّہُمَّ لاَ تَفْتِنَّا بَعْدَہُ ، وَلاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ ۔
حدیث نمبر: 11718
١١٧١٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي هاشم عن الشعبي قال: سمعته يقول في الأولى ثناء على اللَّه تعالى، وفي الثانية صلاة على النبي ﷺ، وفي الثالثة دعاء للميت، وفي الرابعة تسليم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام شعبی سے سنا، آپ فرماتے ہیں، پہلی تکبیر میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا پڑھے، دوسری میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے، تیسری میں میت کے لئے دعا کرے اور چوتھی کے بعد سلام ہے۔
حدیث نمبر: 11719
١١٧١٩ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: سمعت أبا أمامة يحدث سعيد بن المسيب قال: من السنة في الصلاة على الجنازة أن (تقرأ) (١) بفاتحة الكتاب، ثم (تصلي) (٢) على رسول اللَّه ﷺ، ثم (تخلص) (٣) الدعاء للميت حتى (تفرغ) (٤)، ولا (تقرأ) (٥) إلا مرة واحدة، ثم (تسلم) (٦) في (نفسك) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہ سے سنا وہ حضرت سعید بن المسیب سے بیان کرتے ہیں کہ نماز جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے سورة الفاتحہ پڑھیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھیں، پھر میت کے لیے دعا کی جائے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو جاؤ اور یہ صرف ایک بار پڑھنا اور پھر اپنے جی میں سلام پھیرنا۔