کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
حدیث نمبر: 11707
١١٧٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) حفص بن غياث عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال: ما (باح) (٢) لنا رسول اللَّه ﷺ ولا أبو بكر ولا عمر في الصلاة على الميت (بشيء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، حضرت ابوبکر وعمر ھمارے لیے نماز جنازہ میں (کوئی مخصوص) دعا ظاہر نہیں فرمائی۔
حدیث نمبر: 11708
١١٧٠٨ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن ثلاثين من أصحاب رسول اللَّه ﷺ أنهم لم يقوموا على شيء في أمر الصلاة على الجنازة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے اور تیس صحابہ کرام سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نماز جنازہ کے بارے میں نہیں دوام کرتے تھے کسی چیز کے بارے میں (کوئی مخصوص دعا نہ پڑھتے تھے) ۔
حدیث نمبر: 11709
١١٧٠٩ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم قال: ليس في الصلاة على الميت دعاء موقت في الصلاة، فادع بما شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراھیم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مخصوص دعا نہیں ہے جو دل چاہے مانگو۔
حدیث نمبر: 11710
١١٧١٠ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن داود عن سعيد بن المسيب والشعبي قالا: ليس على الميت دعاء موقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میت کے لیے کوئی مخصوص اور مقرر دعا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11711
١١٧١١ - حدثنا غندر عن عمران بن (حدير) (١) قال: سألت محمدًا عن الصلاة ⦗٢٤⦘ على الميت فقال: ما (نعلم) (٢) له (شيئًا) (٣) (موقتًا) (٤)، (فادع) (٥) (بأحسن) (٦) ما تعلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں نے محمد سے نماز جنازہ کی دعا کے بارے میں دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا ہمیں تو کوئی مخصوص اور مقرر دعا معلوم نہیں ہے۔ جو اچھی دعا آپ کو معلوم ہو وہ پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 11712
١١٧١٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن إسحاق، بن سويد عن (بكر) (١) بن عبد اللَّه قال: ليس في الصلاة على الميت شيء موقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لئے کوئی مقرر اور مخصوص دعا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11713
١١٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) يعلى بن عبيد عن موسى الجهني قال: سألت الحكم والشعبي وعطاء (ومجاهدًا) (٢): (أفي) (٣) الصلاة على الميت شيء موقت؟ فقالوا: لا، إنما أنت شفيع، فاشفع بأحسن ما تعلم.
مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ الجھنی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم ، حضرت شعبی ، حضرت عطاء اور حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مخصوص دعا ہے۔ سب حضرات نے فرمایا : نہیں، آپ تو اس کی سفارش (شفاعت) کرنے والے ہیں، پس جو اچھی سفارش آپ جانتے ہو وہ پڑھ لو۔ (کر لو) ۔
حدیث نمبر: 11714
١١٧١٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي سلمة قال: سمعت الشعبي يقول في الصلاة على الميت: ليس فيه شيء (موقت) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سنا۔ آپ فرماتے ہیں نماز جنازہ میں کوئی مقرر دعا نہیں ہے۔