حدیث نمبر: 11685
١١٦٨٥ - حدثنا وكيع بن الجراح عن سفيان عن هلال بن خباب عن أبي البختري قال: الطعام على الميت من أمر الجاهلية والنوح من أمر الجاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری ارشاد فرماتے ہیں کہ مرنے پر کھانا کھلانا اور نوحہ کرنا دونوں جاہلیت کے کام ہیں۔
حدیث نمبر: 11686
١١٦٨٦ - حدثنا فضالة بن حصين عن عبد الكريم عن سعيد بن جبير قال: ثلاث من أمر الجاهلية: بيتوتة المرأة عند أهل المصيبة ليست منهم، والنياحة، ونحر (الجزر) (١) عند المصيبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ تین کام جاہلیت والے ہیں، غیر عورت کا مصیبت والوں کے ہاں رات گزارنا، نوحہ کرنا اور مصیبت کے وقت جانور ذبح کرنا (کھانے کیلئے) ۔
حدیث نمبر: 11687
١١٦٨٧ - حدثنا معن بن عيسى عن ثابت (بن) (١) قيس قال: أدركت عمر بن عبد العريز يمنع أهل الميت الجماعات يقول (ترزءون وتغرمون) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز میت کے گھر میں اجتماع لگانے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ایک طرف تو یہ دکھ کا شکار ہیں اور دوسری طرف جرمانہ بھریں۔
حدیث نمبر: 11688
١١٦٨٨ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة قال: قدم جرير على عمر فقال: هل (يناح) (١) قبلكم على الميت؟ قال: لا، قال: فهل تجتمع النساء عندكم على الميت ويطعم الطعام؟ قال: نعم، (فقال) (٢): تلك النياحة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر حضرت عمر کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تمہارے پاس (تمہارے ہاں) میت پر نوحہ کیا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، حضرت جریر نے پوچھا کیا تمہارے ہاں میت کے پاس عورتیں جمع ہوتی ہیں اور کھانا کھلایا جاتا ہے ؟ فرمایا ہاں۔ حضرت جریر نے فرمایا یہی تو نوحہ ہے۔