حدیث نمبر: 11642
١١٦٤٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن (عبيد اللَّه) (١) عن الحكم عن علي قال: الإمام أحق من صلى على جنازة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ امام زیادہ حقدار ہے جو نماز پڑھائے کسی جنازے کی۔
حدیث نمبر: 11643
١١٦٤٣ - حدثنا جرير عن منصور قال: ذهبت مع إبراهيم إلى جنازة (و) (١) هو وليها، فأرسل إلى إمام الحي فصلى عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ میں ابراہیم کے ساتھ ایک جنازے پر گیا جس کے والی ابراہیم (خود) تھے۔ آپ نے محلہ کے امام کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
حدیث نمبر: 11644
١١٦٤٤ - حدثنا حفص عن عمه (غنام) (١) بن طلق قال: شهد أبو بردة مولاة له فأمر (إمام) (٢) الحي فتقدم عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غنام بن طلق فرماتے ہیں حضرت ابو بردہ اپنے غلام کے جنازے پر حاضر ہوئے آپ نے محلہ کے امام کو حکم فرمایا کہ وہ آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 11645
١١٦٤٥ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة (عن) (١) محمد بن السائب قال: توفيت ابنة إبراهيم التيمي فشهد إبراهيم (النخعي) (٢) (جنازتها فأمر إبراهيم النخعي) (٣) إمام التيم أن يصلي عليها وقال: هو السنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن السائب فرماتے ہیں کہ ابراہیم تیمی کے صاحبزادے وفات پا گئے تو ان کے جنازے پر ابراہیم نخعی حاضر ہوئے۔ ابراہیم نخعی نے بنو تیم کے امام کو حکم فرمایا کہ وہ اس کی نماز جنازہ پڑھائے، اور پھر ارشاد فرمایا : یہی سنت طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 11646
١١٦٤٦ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن مسلم قال: رأيت عبد الرحمن بن أبي ليلى قدم عبد اللَّه بن حكيم على أمه وكان إمام الحي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کو دیکھا آپ نے اپنی والدہ کی نمازجنازہ پڑھانے کے لیے حضرت عبد اللہ بن حکیم کو مقدم فرمایا۔ وہ ان کے محلہ کے امام تھے۔
حدیث نمبر: 11647
١١٦٤٧ - [حدثنا وكيع عن حسن (عن) (١) إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد ابن غفلة قال: الإمام أحق] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ ارشاد فرماتے ہیں امام (محلہ) جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 11648
١١٦٤٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن جرير قال: يتقدم الإمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر ارشاد فرماتے ہیں کہ امام (محلہ) کو جنازے کے لیے مقدم کریں گے۔
حدیث نمبر: 11649
١١٦٤٩ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن (١) إبراهيم عن الأسود أنه (كان) (٢) (يقدم) (٣) على الجنائز (لسنه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود ارشاد فرماتے ہیں کہ جنازوں پر مقدم امام (محلہ) ہوں گے۔ سنت کی وجہ سے (سنت طریقہ یہی ہے) ۔
حدیث نمبر: 11650
١١٦٥٠ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن منصور عن إبراهيم قال: كنت أقدم الأسود على (الجنائز) (٢) قال إبراهيم: وكان إمامهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں حضرت اسود کو جنازہ کی نماز کے لیے مقدم کیا، (کیونکہ) وہ ان کے امام (محلہ) تھے۔
حدیث نمبر: 11651
١١٦٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الحسن بن عمرو قال: مات ابن (لأبي) (١) معشر فلم يحضر الإمام فقال: (ليتقدم) (٢) من كان يصلي بعد الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عمرو سے مروی ہے کہ حضرت ابو معشر کے بیٹے وفات پا گئے تو اس وقت امام حاضر نہ تھے، فرمایا جو شخص امام کی عدم موجودگی میں نماز پڑھایا کرتا ہے وہ آگے بڑھ کر جنازہ پڑھائے۔
حدیث نمبر: 11652
١١٦٥٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن سالم والقاسم وطاوس ومجاهد وعطاء أنهم كانوا يقدمون الإمام على الجنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم ، حضرت قاسم ، حضرت طاؤس ، حضرت مجاہد اور حضرت عطاء جنازے کی نماز کے لیے امام کو مقدم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11653
١١٦٥٣ - حدثنا حفص بن غياث عن عمه قال: شهدت طلحة (و) (١) زبيدًا وقد ماتت امرأة (ذات) (٢) قرابة لهم فقدموا إمام الحي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفص بن عیاث اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اپنے قریبی خاتون کے جنازے پر حاضر ہوئے، دونوں حضرات نے محلہ کے امام کو جنازے کے لیے مقدم کیا۔
حدیث نمبر: 11654
١١٦٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يقدمون الأئمة على جنائزهم.
حدیث نمبر: 11655
١١٦٥٥ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن حماد قال: (يقدم) (١) الولي على الجنازة من أحب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد ارشاد فرماتے ہیں کہ ولی جس کو چاہے جنازہ کی نماز کے لیے آگے کردے۔
حدیث نمبر: 11656
١١٦٥٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر (عن) (١) عبد الرحمن بن الأسود وعلقمة قالا: يتقدم الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود اور حضرت علقمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ امام کو جنازہ کے لیے آگے کریں گے۔
حدیث نمبر: 11657
١١٦٥٧ - حدثنا شريك عن الحسن بن عبيد اللَّه أن علقمة كان يصلي على (جنائز) (١) الحي وليس بإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ اپنے محلہ کے جنازوں کی نماز پڑھا کرتے تھے حالانکہ وہ امام نہ تھے۔