کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میری نماز جنازہ فلاں شخص پڑھائے
حدیث نمبر: 11635
١١٦٣٥ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عطاء بن السائب عن محارب بن دثار قال: أوصت أم سلمة أن يصلي عليها سعيد بن زيد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ حضرت سعید بن زید پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 11636
١١٦٣٦ - حدثنا سهل بن يوسف عن ابن عون عن محمد قال: أوصى يونس بن جبير أن يصلي عليه أنس بن مالك (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضرت یونس بن جبیر نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 11637
١١٦٣٧ - [حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي حصين أن عبيدة أوصى أن يصلي عليه الأسود] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت اسود پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 11638
١١٦٣٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق أن أبا ميسرة أوصى أن يصلي عليه (قاضي المسلمين) (١) شريح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ مسلمان کے قاضی حضرت شریح پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 11639
١١٦٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) أبو داود الطيالسي عن شعبة قال: حدثنا (٢) أبو إسحاق قال: أوصى الحارث: أن يصلي عليه عبد اللَّه بن يزيد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حارث نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت عبد اللہ بن یزید پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 11640
١١٦٤٠ - حدثنا سهل بن يوسف عن ابن عون عن محمد قال: (ما) (١) علمت أن أحدًا أحق بالصلاة على أحد إلا أن (يوصي) (٢) (الميت) (٣) (فإن) (٤) لم (يوص) (٥) الميت صلى عليه أفضل أهل بيته.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کوئی شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے ہاں مگر وہ شخص (زیادہ حقدار ہے) جس کے لیے مرنے والا وصیت کرے، اور اگر مرنے والا وصیت نہ کرے تو اھل بیت میں سے جو سب سے افضل ہے وہ جنازہ کی نماز پڑھائے۔
حدیث نمبر: 11641
١١٦٤١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن محارب (أن) (١) أم سلمة أوصت أن يصلي عليها سوى الإمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محارب فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ امام وقت کے علاوہ کوئی اور پڑھائے۔