کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں؟
حدیث نمبر: 11598
١١٥٩٨ - حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سعيد (عن) (١) أبي (هريرة) (٢) عن النبي ﷺ قال: "أسرعوا بالجنازة فإن تكُ صالحة فخير تقدمونها اليه، وإن تك غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنازے کو جلدی لے کر جاؤ (قبرستان کی طرف) کیونکہ اگر تو وہ نیک ہے تو جس کی طرف اس کو لے کر جا رہے ہو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور اگر وہ اس کے علاوہ ہے تو تم شر کو اپنی گردنوں سے (جلدی) اتار دو ۔
حدیث نمبر: 11599
١١٥٩٩ - حدثنا هشيم عن عيينة بن عبد الرحمن (عن أبيه) (١) عن أبي (بكرة) (٢) قال: لقد رأيتنا وأنا مع رسول اللَّه ﷺ يكاد أن يرمل بالجنازة رملًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم جنازے کو تیزی سے لے کر چلا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11600
١١٦٠٠ - حدثنا إسماعيل بن علية عن سلمة بن علقمة عن الحسن قال: أوصى عمران بن حصين قال: إذا أنا مت فأسرعوا ولا تهودوا (كما يهود) (١) اليهود والنصارى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین نے وصیت فرمائی جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کو تیز لے کر جانا، اور آہستہ مت چلنا جیسے یہود و نصاریٰ چلا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11601
١١٦٠١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: حدثني يحيى بن أبي راشد (النصري) (١) قال: قال عمر حين حضرته الوفاة لابنه: إذا خرجتم فأسرعوا بي المشي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابو راشد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کا وقت المرگ قریب آیا تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا : جب تم میرے جنازے کو لے کر نکلنا تو مجھے تیز اور جلدی لے کر جانا۔
حدیث نمبر: 11602
١١٦٠٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن الجعد عن إبراهيم بن نافع عن أبي هريرة قال: أسرعوا بي إلى ربي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں مجھے میرے رب کے پاس جلدی لے کر جاؤ۔
حدیث نمبر: 11603
١١٦٠٣ - حدثنا وكيع عن مسعر (عن زيد العمي) (١) عن أبي الصديق ⦗٥٤٨⦘ الناجي قال: إن كان الرجل لينقطع شسعه في الجنازة فما يدركها (أو ما يكاد) (٢) أن يدركها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں جب جنازے میں چلتے ہوئے کسی کا تسمہ ٹوٹ جاتا تو اس کیلئے جنازے کے ساتھ چلنا مشکل ہوجاتا۔
حدیث نمبر: 11604
١١٦٠٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين (عن) (١) إبراهيم (عن علقمة) (٢) قال: إذا أنا مت فأسرعوا بي المشي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں جب میں مر جاؤں تو مجھے جلدی جلدی اور تیز لے کر چلنا۔
حدیث نمبر: 11605
١١٦٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن [(الزبرقان) (١) قال: سمعت أبا وائل يقول عند موته: فأسرعوا بي المشي] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو وائل سے سنا وہ اپنی موت کے وقت فرما رہے تھے جب میں مر جاؤں تو مجھے جلدی لے کر جانا۔
حدیث نمبر: 11606
١١٦٠٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن (ثوير) (١) عن أبي جعفر أن علي بن حسين أوصى: أسرعوا بي المشي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین نے وصیت فرمائی کہ مجھے جلدی لے کر چلنا۔
حدیث نمبر: 11607
١١٦٠٧ - [حدثنا وكيع عن عمارة عن زاذان عن مكحول الأزدي قال: سمع (ابن عمر) (١) رجلًا يقول: (ارفقوا) (٢) بها -رحمكم اللَّه- قال: هو (دأبها) (٣) (لتسرعن) (٤) بها أو لأرجعن] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول الازدی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا، اس کو آہستہ لے کر چلو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے۔ آپ نے فرمایا : آہستہ ؟ اسکو جلدی اور تیز لے کر چلو یا واپس لوٹ جاؤ۔
حدیث نمبر: 11608
١١٦٠٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كان يقال: انبسطوا (بجنائزكم) (١) ولا تدبوا بها دب اليهود.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہں پ کہ اپنے جنازوں کو تیز لے کر چلو، یہودیوں کی طرح آہستہ آہستہ (رینگتے ہوئے) مت چلو۔
حدیث نمبر: 11609
١١٦٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما كانا يعجبهما أن يسرع (بالجنازة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد جنازے کو تیز لے جانے کو پسند فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11610
١١٦١٠ - حدثنا الفضل بن دكين عن أبي (المعتمر) (١) قال: (كنا) (٢) في جنازة فكان الحسن إذا رأى منهم إبطاءً قال: امضوا لا (تحبسوا) (٣) ميتكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المعتمر فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں تھے، حسن نے دیکھا وہ جنازہ آہستہ (تاخیر) لے کر جا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا اسکو تیز لے کر چلو اپنی میت کو قید میں مت رکھو (بلکہ جلدی جا کر دفن کردو) ۔
حدیث نمبر: 11611
١١٦١١ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: حدثنا إسرائيل عن عبد اللَّه بن المختار عن معاوية بن (قرة) (٢) قال: (نا) (٣) أبو (كرب) (٤) (أو) (٥) أبو (حرب) (٦) عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٧) أنه أخبره: أن أباه أوصاه قال: إذا أنت حملتني على السرير فامش بي مشيًا بين المشيين، وكن خلف الجنازة، فإن مقدمها للملائكة وخلفها لبني آدم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے وصیت فرمائی کہ جب تم مجھے چارپائی پر اٹھاؤ تو مجھے لے کر میانہ انداز میں چلو، اور جنازے کے پیچھے رہو، بیشک اس کے آگے ملائکہ ہوتے ہیں اور پچھلا حصہ انسانوں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 11612
١١٦١٢ - حدثنا يزيد بن (هارون) (١) عن حماد بن سلمة (عن حماد) (٢) (إبراهيم عن) (٣) علقمة (٤) قال: لا تدبوا بالجنازة دبيب النصارى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ ارشاد فرماتے ہیں جنازہ کو نصاریٰ کی طرح آہستہ آہستہ مت لے کر چلو۔