کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: یہ باب اس بیان میں ہے کہ آدمی کو اپنی گردن تختہ کے دونوں پائوں کے درمیان رکھنا چاہئیں یا نہیں
حدیث نمبر: 11511
١١٥١١ - حدثنا هشيم بن بشير (عن أبي بشر) (١) (عن) (٢) يوسف بن ماهك قال: رأيت ابن عمر في جنازة واضعًا السرير (على) (٣) كاهله بين العمودين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن ماھک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ایک جنازہ میں آپ نے چارپائی اپنے دونوں کندھوں کے درمیان مونڈے پر رکھی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11511
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11511، ترقيم محمد عوامة 11294)
حدیث نمبر: 11512
١١٥١٢ - حدثنا (معن) (١) بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالم بن عبد اللَّه بين (عمودي) (٢) سرير أمه حتى (خرج بها) (٣) من الدار، وحمزة وعبيد اللَّه (أحدهما) (٤) آخذ بعضادات السرير اليمنى والآخر باليسرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں ہمیں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو والدہ کی جنازہ کی چارپائی کے دونوں ٹانگوں کے درمیان دیکھا یہاں تک کہ ان کو لے کر گھر سے نکلے، اور حمزہ اور عبید اللہ میں سے ایک نے چارپائی کی داہنی جانب (ہاتھ) اور دوسرے نے بائیں جانب پکڑ رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11512
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11512، ترقيم محمد عوامة 11295)
حدیث نمبر: 11513
١١٥١٣ - حدثنا (معن) (١) بن عيسى عن معروف مولى (لقريش) (٢) قال: رأيت المطلب بن عبد اللَّه بن حنطب بين (عمودي) (٣) سرير ابنه الحارث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معروف فرماتے ہیں کہ میں نے مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کو حارث کے بیٹے کی میت کی چارپائی کو دونوں بازوؤں کے درمیان دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11513
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11513، ترقيم محمد عوامة 11296)
حدیث نمبر: 11514
١١٥١٤ - حدثنا وكيع وغندر (عن) (١) شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه قال: رأيت سعدًا عند قائمة سرير عبد الرحمن بن عوف يقول واجبلاه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد کو حضرت عبد اللہ بن عوف کی چارپائی کے پائے کے پاس دیکھا آپ فرما رہے تھے، ہائے سردار اور عالم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11514
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11514، ترقيم محمد عوامة 11297)
حدیث نمبر: 11515
١١٥١٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن (أبي) (١) إسحاق قال: رأيت أبا جحيفة في جنازة أبي ميسرة (أخذ) (٢) بقائمة السرير وجعل يقول: غفر اللَّه لك يا أبا ميسرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جحیفہ کو حضرت ابو میسرہ کے جنازے میں دیکھا آپ نے چارپائی کے پائے کو پکڑ رکھا تھا اور فرما رہے تھے، اے ابو میسرہ اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11515
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد في العلل ٣/ ٤٥٣، وابن سعد ٦/ ١٠٨، وأبو الوليد الباجي في التعديل والتجريح ٣/ ٩٨٤، وانظر: ما سيأتي برقم [١١٥١٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11515، ترقيم محمد عوامة 11298)
حدیث نمبر: 11516
١١٥١٦ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره أن يكون بين قائمة السرير (رجل) (١) يحمله.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11516
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11516، ترقيم محمد عوامة 11299)
حدیث نمبر: 11517
١١٥١٧ - حدثنا كثير بن هشام عن فرات بن (سلمان) (١) قال: (خرجت) (٢) جنازة من دار بني ذي الخمار قال: وشاب منهم (قد) (٣) وضع السرير على كاهله فأخذ ميمون بيده فأخرجه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرات بن سلیمان فرماتے ہیں کہ دار بنو الخمار سے ایک جنازہ نکالا گیا، ان میں نوجوان تھا جس نے مونڈھے پر چارپائی رکھی ہوئی تھی، حضرت میمون نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو باہر نکال دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11517
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11517، ترقيم محمد عوامة 11300)
حدیث نمبر: 11518
١١٥١٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل قال: رأيت أبا جحيفة في جنازة أبي ميسرة والسرير على عاتقه وهو يقول: اللهم اغفر لأبي ميسرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جحیفہ کو حضرت ابو میسرہ کے جنازے پر دیکھا چارپائی آپ کے کاندھے پر تھی اور فرما رہے تھے، اے اللہ ! ابو میسرہ کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11518
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أنظر: ما سبق برقم [١١٥١٥].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11518، ترقيم محمد عوامة 11301)
حدیث نمبر: 11519
١١٥١٩ - حدثنا وكيع عن الربيع عن الحسن أنه كره أن يقوم في مقدم السرير أو مؤخره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حسن اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ چارپائی کے آگے یا پیچھے کھڑا ہوا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11519
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11519، ترقيم محمد عوامة 11302)