حدیث نمبر: 11498
١١٤٩٨ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن فضيل عن (ابن) (١) (معقل) (٢) قال: قال عمر: لا تتبعني بمجمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : میرے جنازے کے ساتھ دھونی دان مت لے کر جانا۔
حدیث نمبر: 11499
١١٤٩٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (الجعد) (١) عن إبراهيم بن نافع قال: قال أبو هريرة: لا تتبعوني بنار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آگ لے کر (دھونی دان) میرے جنازے کے پیچھے مت آنا۔
حدیث نمبر: 11500
١١٥٠٠ - حدثنا وكيع عن إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع عن عمته أم النعمان بنت مجمع عن (ابنة) (١) أبي سعيد أن أبا سعيد قال: لا تتبعوني بنار ولا تجعلوا على سريري قطيفة نصراني (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے جنازے کے پیچھے آگ لیکر مت آنا، اور میری چارپائی پر نصرانی مخمل کی چادر مت ڈالنا۔
حدیث نمبر: 11501
١١٥٠١ - حدثنا وكيع عن هارون (عن) (١) إبراهيم عن (عبد اللَّه) (٢) (بن عبيد) (٣) بن عمير عن عائشة أنها أوصت: أن لا تتبعوني بمجمر ولا تجعلوا عليّ قطيفة حمراء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کے پیچھے دھونی دان لیکر نہ آنا، اور مجھ پر لال مخمل کی چادر مت ڈالنا۔
حدیث نمبر: 11502
١١٥٠٢ - حدثنا وكيع عن أبي الأشهب عن بكر (بن عبد اللَّه) (١) عن عبد اللَّه بن مغفل أوصى أن لا تتبعوني بصوت ولا نار و (لا) (٢) ترموني بالحجارة يعني المدر ⦗٥٢٥⦘ (الذي) (٣) يكون على (شفير) (٤) القبر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کی اتباع نہ کرنا آواز اور آگ کے ساتھ، اور مجھے پتھر نہ مارنا، یعنی وہ گارا جو کہ قبر کے کناروں پر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 11503
١١٥٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير أنه رأى (مجمرًا) (١) في جنازة (فكسره) (٢) وقال: سمعت ابن عباس يقول: لا تشبهوا بأهل الكتاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ایک جنازہ میں دھونی دان دیکھا تو اس کو توڑ دیا اور فرمایا میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اھل کتاب کی مشابہت اختیار مت کرو۔
حدیث نمبر: 11504
١١٥٠٤ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن وابن سيرين أنهما كرها أن (تتبع) (١) الجنازة بمجمر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین جنازہ کے ساتھ دھونی دان لے جانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11505
١١٥٠٥ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن الشعبي قال: إذا أخرجته فلا تتبعه نارًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم جنازے کو لے کر نکلو تو اسکے پیچھے آگ لے کر مت چلو۔
حدیث نمبر: 11506
١١٥٠٦ - حدثنا وكيع عن حسن عن منصور عن إبراهيم أنه كره أن يتبعه (مجمر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور ارشاد فرماتے ہیں کہ ابراہیم جنازے کے ساتھ دھونی دان لے کر جانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11507
١١٥٠٧ - حدثنا هشيم عن ابن عون قال: غدونا على إبراهيم (النخعي) (١) فأخبرونا أنه مات ودفن (من) (٢) الليل، قال: فأخبرنا عبد الرحمن بن الأسود أنه ⦗٥٢٦⦘ أوصى أن لا (تتبعوا) (٣) جنازته بنار ولا تجعلوا عليه من اللبن العرزمي الذي يصنع من الكناسات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت ابراہیم نخعی کے پاس تشریف لے گئے تو لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فوت ہوگئے ہیں اور رات کو دفن کر دئیے گئے ہیں، پھر ہمیں حضرت عبد الرحمن بن اسود نے بتلایا کہ انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کے پچھے ے آگ لے کر مت آنا، اور میری قبر پر عرزمی (جگہ کا نام) پتھر مت رکھنا جس سے گرجا کی تعمیر کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 11508
١١٥٠٨ - حدثنا وكيع عن ابن عون قال: أتينا إلى منزل إبراهيم بعد موته فقلنا: بأي شيء أوصى؟ قالوا: أوصى: أن لا يتبع بنار، وألحدوا لي لحدا، ولا تجعلوا في قبري لبنًا عرزميًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ ہم ابراہیم کی وفات کے بعد ان کے گھر آئے اور ہم نے دریافت کیا کہ انہوں نے کس چیز کی وصیت کی تھی ؟ تو انہوں نے بتایا انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازے کے پیچھے آگ لے کر مت جانا، اور میری قبر لحد کھودنا، اور میری قبر پر عرزمی جگہ کے پتھر نہ رکھنا۔
حدیث نمبر: 11509
١١٥٠٩ - حدثنا وكيع عن شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن رجل (عن) (١) أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (تتبع) (٢) (الجنازة) (٣) بصوت ولا بنار (ولا يمشى) (٤) (أمامها) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنازہ کا اتباع نہ کیا جائے آگ اور آواز کے ساتھ اور نہ اس کے آگے چلا جائے۔
حدیث نمبر: 11510
١١٥١٠ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن (حنش) (١) بن المعتمر قال: كان رسول اللَّه ﷺ في جنازة فرأى امرأة معها مجمر فقال: " (اطردوها) (٢) " فما زال قائمًا حتى قالوا: يا رسول اللَّه قد توارت في آجام المدينة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنش بن معتمر فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جنازہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاتون کو دیکھا اس کے پاس دھونی دان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ مدینہ کے محلات سے پیچھے آرہی تھی۔