کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: میت کے کفن کو زیب وزینت دینا اور جس نے اس کو پسند کیا ہے، اور بعض نے رخصت دی ہے کہ وہ اگر ایسا نہ بھی کرے توکوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 11457
١١٤٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن أبي الزبير عن جابر يرفعه قال: إذا مات أحدكم فليحسن كفنه قال: فإن لم يجد فليكفنه في (بردي) (١) حبرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کو اچھا (زیب وزینت والا) کفن دو ، اور اگر تم اسکو نہ پاؤ تو اس کو یمنی چادر میں ہی کفن دیدو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11457
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11457، ترقيم محمد عوامة 11241)
حدیث نمبر: 11458
١١٤٥٨ - حدثنا وكيع عن أبي العميس عن حبيب بن أبي ثابت عن (خثيم) (١) ابن عمرو أن (عبد اللَّه) (٢) بن مسعود أوصى أن يكفن في حلة (ثمنها) (٣) مائتي درهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثم بن عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کو عمدہ پوشاک میں کفن دیا جائے جس کی قیمت دو سو درھم ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11458
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11458، ترقيم محمد عوامة 11242)
حدیث نمبر: 11459
١١٤٥٩ - حدثنا (بشر) (١) بن مفضل عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين قال: كان يحب حسن الكفن ويقال: إنهم يتزاورون في أكفانهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ کفن اچھا اور عمدہ ہو۔ اور فرماتے ہیں کہ بیشک وہ اپنے کفنوں میں ملاقات کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11459
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11459، ترقيم محمد عوامة 11243)
حدیث نمبر: 11460
١١٤٦٠ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرنا معاوية بن صالح قال: (حدثنا) (١) سعيد بن هانيء عن عمير بن الأسود (السكوني) (٢) أن معاذ بن جبل أوصى (امرأته) (٣) وخرج فماتت وكفناها في ثياب لها خلقان، فقدم (بعد أن رفعنا) (٤) أيدينا عن قبرها (ساعتئذ) (٥) فقال: (فيم) (٦) كفنتموها؟ قلنا: في ثيابها الخلقان، فنبشها وكفنها في ثياب جدد وقال: أحسنوا أكفان موتاكم فإنهم يحشرون فيها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسود السکونی سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل نے اپنی اہلیہ کو وصیت فرمائی اور چلے گئے، ان کی اہلیہ انتقال کرگئی تو ان کو پرانے کپڑوں میں کفن دیا، اور جس وقت ہم نے ان کو دفن کرنے کے لئے ان کو ہاتھوں پر اٹھا رکھا تھا آپ حاضر ہوئے اور پوچھا کس کپڑے میں اس کو کفن دیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا پرانے کپڑوں میں، تو آپ نے اس کو کھولا اور نئے کپڑوں میں کفن دیا اور فرمایا : اپنے مردوں کو اچھا اور عمدہ کفن دو بیشک وہ اس میں جمع کئے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11460
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ معاوية صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11460، ترقيم محمد عوامة 11244)
حدیث نمبر: 11461
١١٤٦١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن (نسير) (١) عن أبي يعلى عن (ابن) (٢) الحنفية قال: ليس للميت من الكفن شيء إنما هو تكرمة الحي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنیفہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میت کیلئے (عمدہ) کفن میں کچھ نہیں رکھا، یہ تو زندہ کا اکرام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11461
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11461، ترقيم محمد عوامة 11245)