کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مشک میں اور خوشبو میں بعض حضرات نے رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 11354
١١٣٥٤ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن مبارك عن حميد عن أنس أنه جعل في حنوطه سورة من مسك أو مسك فيه شعر من شعر رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس نے مشک کی ایک تھیلی خوشبو بنائی ہوئی تھی یا مشک ملی ہوئی خوشبو تھی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مبارک میں سے ایک بال تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11354
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وأخرجه البيهقي (٦/ ٤٠٣) وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٢٣١) وابن سعد (٧/ ٢٥) وابن المنذر في الأوسط (٢/ ٢٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11354، ترقيم محمد عوامة 11141)
حدیث نمبر: 11355
١١٣٥٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم عن ابن سيرين قال: سئل ابن عمر عن المسك يجعل في الحنوط قال: أو ليس (من) (١) أطيب طيبكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا مشک کو بھی میت کو لگائی جانے والی خوشبو میں شمار کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا کیا یہ تمہاری خوشبوؤں میں سے سب سے خوشبو دار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11355
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11355، ترقيم محمد عوامة 11142)
حدیث نمبر: 11356
١١٣٥٦ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن محمد بن سيرين قال: سئل ابن عمر أيقرب الميت المسك؟ قال: أو ليس من أطيب طيبكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا ! مشک خوشبو میت کے قریب کرسکتے ہیں (اس کو لگا سکتے ہیں ؟ ) آپ نے فرمایا کیا یہ تمہاری خوشبوؤں میں سے سب سے زیادہ خوشبو دار نہیں ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11356
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11356، ترقيم محمد عوامة 11143)
حدیث نمبر: 11357
١١٣٥٧ - حدثنا (عبد الرحمن) (١) بن مهدي عن المثنى بن سعيد عن قتادة قال: سألت سعيد بن المسيب عن المسك في حنوط الميت قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے دریافت کیا کہ میت کو مشک خوشبو لگا سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں، پھر حضرت جابر بن زید سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بھی فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11357
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11357، ترقيم محمد عوامة 11144)
حدیث نمبر: 11358
١١٣٥٨ - وسئل عن ذلك جابر بن زيد (قال) (١): لا بأس به.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11358
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11358، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 11359
١١٣٥٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء أنه سئل أيطيب الميت بالمسك؟ قال: نعم أو ليس يجعلون في (الذي) (١) (يجمرون) (٢) به المسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کیا میت کو مشک بطور خوشبو لگا سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں کیا لوگ اس کو دھونی دینے کیلئے استعمال نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11359
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11359، ترقيم محمد عوامة 11145)
حدیث نمبر: 11360
١١٣٦٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن هارون بن سعد أن عليًا أوصى أن يجعل في حنوطه مسك، وقال: هو فضل حنوط النبي ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہارون بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے مرنے کے بعد مشک بطور خوشبو لگائی جائے، اور فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بچی ہوئی مسک تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11360
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11360، ترقيم محمد عوامة 11146)
حدیث نمبر: 11361
١١٣٦١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب ومحمد بن سوقة عن الشعبي قال: لما غزا سلمان بلنجر أصاب في (قسمه) (١) صرة من مسك، فلما رجع استودعها (امرأته) (٢)، فلما مرض (مرضه) (٣) الذي مات فيه قال لامرأته وهو يموت: أريني الصرة التي استودعتك، فأتته بها، فقال: ائتني بإناء نظيف، فجاءت ⦗٤٩٢⦘ به (فقال) (٤): (أوجفيه) (٥) ثم انضحي به حولي فإنه يحضرني خلق من خلق اللَّه لا يأكلون الطعام ويجدون الريح وقال: اخرجي عني وتعاهديني، قالت: فخرجت ثم رجعت وقد قضى (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ جب حضرت سلمان لنجر کے غزوہ میں شریک ہوئے تو غنیمت کی تقسیم میں مشک کی تھیلی ملی، جب وہ واپس آئے تو وہ تھیلی اپنی اہیہغ کے پاس امانت رکھوا دی، پھر جب وہ مریض ہوئے، جس مرض میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : جو تھیلی میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی تھی وہ لا کر مجھے دو ، وہ تھیلی لے کر حاضر ہوگئیں، آپ نے فرمایا اس کو میرے اردگرد چھڑک دو ، کیونکہ میرے اردگرد ایسی مخلوق حاضر ہوتی ہے جو کھاتی (پیتی) نہیں ہے مگر خوشبو (محسوس) کرتے ہیں اور پھر فرمایا اس کو لے جاؤ میرے پاس سے اور مجھ سے عہد کرو، وہ فرماتی ہیں کہ میں نکل گئی پھر جب میں واپس آئی تو آپ کی روح اس دنیا سے کوچ کرچکی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11361
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11361، ترقيم محمد عوامة 11147)
حدیث نمبر: 11362
١١٣٦٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع أن ابن عمر حنط ميتًا (بمسك) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میت کو مشک سے خوشبو لگایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11362
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11362، ترقيم محمد عوامة 11148)