کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: میت کے پائخانے کی جگہ پر اور جہاں سے کچھ نکلنے کا خوف ہو وہاں کچھ لگا دیا جائے
حدیث نمبر: 11349
١١٣٤٩ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن ابن جريج عن عطاء قال: قلت أحض الكرسف؟ قال: نعم، قلت: (لأن لا) (١) (يتفجر) (٢) منه شيء؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا : اس پر روئی رکھ دیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، میں نے عرض کیا، یہ اس وجہ سے ہے تاکہ اس میں سے کوئی (گندگی) نہ نکلے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 11350
١١٣٥٠ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: يحشى من الميت لما يخافون أن يخرج منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میت کی ہر وہ جگہ جہاں سے کچھ (گندگی) نکلنے کا خوف ہو وہاں پر (روئی) چپکا دیں گے۔
حدیث نمبر: 11351
١١٣٥١ - حدثنا ابن مهدي عن (همام) (١) عن مطر عن الحسن قال: يحشى دبره ومسامعه وأنفه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ میت کے پاخانے کے مقام، کانوں اور ناک پر رکھ دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 11352
١١٣٥٢ - حدثنا أبو داود عن الربيع قال: سمعت ابن سيرين يقول: يحشى دبر الميت (وفوه) (١) ومنخراه قطنًا، وقال محمد: ما عالجت (دبره) (٢) فعالجه (بيسارك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے سنا میت کے دبر، منہ اور ناک پر روئی چپکا دی جائے گی، محمد کہتے ہیں اس کے پاخانے کی جگہ پر جو علاج کرنا پڑے (کوئی چیز رکھنا پڑے) وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کرنا۔
حدیث نمبر: 11353
١١٣٥٣ - حدثنا وكيع عن (حسان) (١) (بن) (٢) إبراهيم عن (أمية) (٣) (الأزدي) (٤) عن جابر بن زيد قال: إذا (خشي) (٥) على الميت (سد) (٦) مراقه ومسامعه بالمشاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ اگر میت کے سوراخوں سے کچھ نکلنے کا اندیشہ ہو اس کے جسم کے سوراخ اور کان روئی سے بند کردیئے جائیں۔