حدیث نمبر: 11182
١١١٨٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: حدثني يحيى بن أبي راشد (النصري) (٢) قال: قال عمر ((٣) لابنه) (٤) حين حضرته ⦗٤٥٠⦘ الوفاة (٥): إذا حضرت الوفاة (فاحرفني) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن راشد البصری سے مروی ہے کہ حضرت عمر کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو اپنے بیٹے سے فرمایا : جب میرا انتقال ہوجائے تو میرا رخ قبلے کی طرف کردینا۔
حدیث نمبر: 11183
١١١٨٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون أن يوجه الميت (١) القبلة إذا حضر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں صحابہ کرام اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مرنے والے کا رخ قبلہ کی طرف کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 11184
١١١٨٤ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن (الحسن) (١) قال: كان يحب أن يستقبل بالميت القبلة إذا كان في الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث سے مروی ہے کہ حسن اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مرنے والے کا رخ قبلہ کی طرف کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 11185
١١١٨٥ - حدثنا (عمر) (١) بن هارون عن ابن جريج عن عطاء قال (قلت) (٢): كان يستحب أن يوجه الميت [عند نزعه إلى القبلة قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضر ت عطاء سے پوچھا نزع کے وقت میت کا رخ قبلہ کی طرف کرنا مستحب ہے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔
حدیث نمبر: 11186
١١١٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: إن شئت فوجه الميت] (١) وإن شئت فلا توجهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر آپ چاہو تو مرنے والے کا رخ قبلہ کی طرف کردو اگر نہ چاہو تو نہ کرو (کوئی حرج نہیں) ۔
حدیث نمبر: 11187
١١١٨٧ - حدثنا جعفر بن (عون) (١) عن سفيان عن إسماعيل بن أمية عن سعيد ابن المسيب أنه كرهه وقال: (أليس) (٢) الميت (إمرءًا مسلمًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن امیہ سے مروی ہے کہ حضر ت سعید بن المسیب اس کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کیا مرنے والا مسلمان نہیں ہے ؟۔
حدیث نمبر: 11188
١١١٨٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن أبي مالك الأشجعي عن ربعي بن (حراش) (١) قال: لما كانت ليلة مات (فيها) (٢) حذيفة دخل عليه أبو مسعود فقال: (تنحَّ) (٣) فقد طال (ليلك) (٤)، فأسنده إلى صدره فأفاق، فقال: أي ساعة هذه؟ قالوا: (السحر) (٥)، فقال حذيفة: اللهم إني أعوذ بك من صباح إلى النار و (مسائها) (٦) ثم (أضجعناه) (٧) فقضى (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ جس رات حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس رات حضرت ابو مسعود ان کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا ایک طرف ہٹ جاؤ، تحقیق تمہاری رات لمبی ہوگی پھر آپ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگایا تو آپ کو کچھ افاقہ ہوا آپ نے فرمایا : یہ کونسا وقت ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا سحری کا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ صبح کے وقت یا شام کے وقت آگ پر آؤں، پھر ہم نے آپ کو پہلو پر لٹا دیا اور آپ نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔
حدیث نمبر: 11189
١١١٨٩ - حدثنا أبو عامر العقدي عن محمد بن قيس قال: حدثني زرعة بن عبد الرحمن أنه شهد سعيد بن المسيب في مرضه وعنده أبو سلمة بن عبد الرحمن فغشي على سعيد، فأمر أبو سلمة أن يحول فراشه إلى الكعبة، فأفاق، فقال: حولتم فراشي؟ فقالوا: نعم، فنظر إلى أبي سلمة فقال: أراه (عملك) (١)، فقال: (أجل) (٢) أنا (أمرتهم) (٣)، (فقال) (٤): فأمر سعيد أن يعاد فراشه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرعہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب کے مرض میں حاضر ہوا آپ کے پاس حضرت ابو سلمہ ابن عبد الرحمن تشریف فرما تھے۔ حضرت سعید بن المسیب پر غشی طاری ہوگئی، حضرت ابو سلمہ نے حکم دیا کہ حضرت سعید کا بستر قبلہ کی طرف پھیرا جائے جس کی وجہ سے آپ کو افاقہ ہوا۔ حضرت سعید نے پوچھا کہ تم نے میرے بستر کو پھیرا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں، حضرت سعید نے حضرت ابو سلمہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تیرا کام ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے ہی انہیں کہا تھا، حضرت سعید نے اپنے بستر کو دوبارہ واپس اسی طرف پھیرنے کا حکم دے دیا۔