کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مریض کی عیادت کا ثواب
حدیث نمبر: 11143
١١١٤٣ - حدثنا هشيم (بن) (١) بشير قال: (أخبرنا) (٢) خالد (عن) (٣) أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن ثوبان مولى رسول اللَّه ﷺ (قال: قال رسول اللَّه ﷺ) (٤): "من عاد مريضًا لم يزل في خرفة الجنة حتى يرجع" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص مریض کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے میووں (باغات) میں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11143
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11143، ترقيم محمد عوامة 10937)
حدیث نمبر: 11144
١١١٤٤ - حدثنا يزيد عن عاصم عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي ﷺ بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان سے اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11144
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٥٦٨) وأحمد (٢٢٣٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11144، ترقيم محمد عوامة 10938)
حدیث نمبر: 11145
١١١٤٥ - حدثنا هشيم عن عبد الحميد بن جعفر عن عمر بن الحكم بن ثوبان عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من عاد مريضًا لم يزل يخوض في الرحمة حتى يجلس، فإذا جلس اغتمس فيها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص مریض کی عیادت کرتا ہے تو وہ مسلسل رحمت میں شامل رہتا ہے جب تک کہ وہ بیٹھ نہ جائے۔ اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو اس رحمت میں گھس جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11145
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11145، ترقيم محمد عوامة 10939)
حدیث نمبر: 11146
١١١٤٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: جاء أبو موسى إلى الحسن بن علي يعوده وكان شاكيًا فقال له علي: ⦗٤٣٨⦘ عائدًا جئت أم شامتًا؟ فقال: لا بل (عائدًا) (١)، فقال له علي: (أما إذ) (٢) جئت عائدًا (فإني) (٣) سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من (أتى) (٤) أخاه (المسلم) (٥) يعوده مشى في (خرافة) (٦) الجنة حتى يجلس، فإذا جلس غمرته الرحمة، وإن كان (غدوة) (٧) صلى عليه سبعون ألف ملك حتى (يمسي) (٨)، وإن كان مساءً صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے، وہ بیماری کی وجہ سے تکلیف محسوس کر رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا : مزاج پرسی کے لئے تشریف لائے ہیں یا دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونے کے لئے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مزاج پرسی کے لئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اگر آپ مزاج پرسی کئے ے تشریف لائے ہیں تو میں نے خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرماتے ہیں جو شخص مسلمان کی عیادت کے لئے آتا ہے وہ جنت کے پھلوں (باغات) میں چلتا ہے یہاں تک کہ بیٹھ جائے، پھر جب بیٹھ جاتا ہے تو اس کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے، اگر وہ صبح کے وقت آتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت فرماتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت آتا ہے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لئے دعائے مغفرت فرماتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11146
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٦١٢) وأبو داود (٣٠٩٩) والنسائي في الكبرى (٧٤٩٤) وابن ماجه (١٤٤٢) والحاكم ١/ ٣٤١، والترمذي (٩٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11146، ترقيم محمد عوامة 10940)
حدیث نمبر: 11147
١١١٤٧ - حدثنا شريك عن علقمة بن مرثد عن بعض آل أبي [موسى (الأشعري) (١) (أنه) (٢)] (٣) أتى عليًا فقال له: ما جاء بك، أجئت عائدًا؟ قال: ما علمت لأحد منكم بشكوى. فقال: بلى الحسن بن علي، ثم قال (علي) (٤): من عاد مريضًا نهارًا صلى (٥) عليه سبعون ألف ملك حتى (يمسي، ومن عاد ليلًا صلى ⦗٤٣٩⦘ عليه سبعون ألف ملك حتى) (٦) يصبح (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن مرثد آل ابو موسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا آپ کیوں تشریف لائے ؟ کیا آپ مزاج پرسی کیلئے تشریف لائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کوئی بیمار ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں نہیں حسن بن علی رضی اللہ عنہ (بیمار ہیں) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس نے صبح کے وقت مریض کی عیادت کی اس کیلئے ستر ہزار فرشتے شام تک دعائے مغفرت فرماتے ہیں، اور جو شام کے وقت مریض کی عیادت کرتا ہے اس کیلئے ستر ہزار فرشتے صبح تک دعائے مغفرت فرماتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11147
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11147، ترقيم محمد عوامة 10941)
حدیث نمبر: 11148
١١١٤٨ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن عكرمة بن خالد قال: (حدثت) (١) أن الرجل إذا عاد مريضًا خاض في الرحمة خوضًا (٢) فإذا جلس (استنقع) (٣) فيها استنقاعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص مریض کی عیادت کرتا ہے تو وہ رحمت میں مسلسل غرق رہتا ہے، پھر جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو وہ اس رحمت سے خوب سیراب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11148
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11148، ترقيم محمد عوامة 10942)
حدیث نمبر: 11149
١١١٤٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا جرير بن حازم قال: (أخبرنا) (١) (بشار بن أبي) (٢) سيف عن الوليد بن عبد الرحمن عن عياض بن (غطيف) (٣) عن أبي عبيدة بن الجراح قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من عاد مريضًا أو أماط أذًى عن طريقٍ (فحسنته) (٤) بعشر أمثالها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ بن جراح سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کیا اس کی نیکی دس گنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11149
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11149، ترقيم محمد عوامة 10943)
حدیث نمبر: 11150
١١١٥٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثني موسى الجهني قال: سمعت سعيد ابن أبي بردة قال: حدثني أبي أن أبا موسى انطلق عائدًا (للحسن) (١) بن علي فقال له (علي) (٢): (أعائدًا) (٣) جئت (أم) (٤) زائرًا؟ قال: لا؛ بل زائرًا، قال: أما إنه (لا يمنعني -وإن) (٥) كان في نفسك (ما في نفسك) (٦) - أن أخبرك (أن) (٧) العائد إذا خرج من بيته يعود مريضًا كان (يخوض) (٨) في الرحمة خوضًا، فإذا انتهى إلى المريض فجلس غمرته الرحمة، (ويرجع) (٩) من عند المريض حين يرجع يشيعه سبعون ألف ملك يستغفرون له (نهاره) (١٠) أجمع، وإن كان ليلًا كان بذلك المنزل حتى يصبح، وله (خريف) (١١) في الجنة (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابو بردہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مزاج پرسی کیلئے تشریف لے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا آپ زیارت کے لیے تشریف لائے ہیں یا عیادت کے لئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ زیارت کے لیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کے دل میں جو کچھ بھی ہے بہرحال وہ یعنی دل کا خیال مجھ کو یہ بات بیان کرنے سے نہیں روک سکتا کہ مریض کی مزاج پرسی کرنے والا جب گھر سے مریض کی عیادت کے لئے نکلتا ہے تو اس کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے وہ رحمت میں گھس جاتا ہے اور جب وہ مریض کے پاس پہنچ کر بیٹھ جاتا ہے تو پھر رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور وہ رحمت میں غرق ہوجاتا ہے اور جب وہ مریض کی عیادت کر کے واپس آتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے تمام دن مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اگر وہ رات کو عیادت کرتا ہے تب بھی اس کو یہ مقام و مرتبہ حاصل رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور اس کے لئے جنت کے میوے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11150
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11150، ترقيم محمد عوامة 10944)