کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: گھٹیا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کو ناپسند کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 11095
١١٠٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن حميد بن صخر عن عمر بن أبي بكر قال: حدثني أبي قال: دخل رسول اللَّه ﷺ المسجد وأقناء في المسجد معلقة، وإذا (فيها) (١) قنو فيه (خدر) (٢) ومعه عرجون (أو) (٣) (في يده) (٤) ⦗٤١٨⦘ عصا (قال) (٥): فطعن فيه وقال: "من جاء بهذا؟ " قالوا: فلان، قال (رسول اللَّه ﷺ) (٦): "بؤس ناس يمسكون صدقاتهم ثم تطرح بالعراء فلا (تأكلها) (٧) العافية (٨)، (يهاجر) (٩) كل (برقه) (١٠) ورعده إلى الشام" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ابن ابی بکر کے والد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو کھجوروں کے گچھے مسجد میں لٹکے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک گچھے پر کچھ خراب کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک لاٹھی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ گچھے پر ماری اور فرمایا یہ کون لایا ہے ؟ لوگوں نے بتایا فلاں آدمی لایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں کے لئے تباہی ہے جو پہلے اپنے صدقات روک کر رکھتے ہیں (حدیث کے آخری حصہ کا معنیٰ محقق محمد عوامہ کے لیے بھی واضح نہیں ہوسکا، دیکھیے حاشیہ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧ ص ٧٩)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11095
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11095، ترقيم محمد عوامة 10888)
حدیث نمبر: 11096
١١٠٩٦ - حدثنا أبو أسامة عن محمد بن أبي حفصة قال: حدثني الزهري عن أبي أمامة بن (سل) (١) قال: كان ناس يتصدقون بشرار ثمارهم حتى نزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [البقرة: ٢٦٧] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ بن سہل فرماتے ہیں کہ لوگوں سب سے گھٹیا مال صدقہ کیا کرتے تھے پھر یہ آیت نازل ہوئی { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ }۔ (ابوداؤد ١٦٠٣۔ ابن خزیمۃ ٢٣١٣)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11096
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو أمامة ليس من الصحابة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11096، ترقيم محمد عوامة 10889)
حدیث نمبر: 11097
١١٠٩٧ - حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين أنه سأل عبيدة عن قوله (تعالى) (١): ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ (وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ) (٢)﴾ [البقرة: ٢٦٧]، إنما ذلك في الزكاة، والدراهم الزيف أحب إلي من التمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت عبیدہ سے سوال کیا گیا کہ اللہ کا ارشاد { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہ } کا نزول کیوں ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11097
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11097، ترقيم محمد عوامة 10890)
حدیث نمبر: 11098
١١٠٩٨ - حدثنا وكيع عن يزيد عن الحسن (ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون) (قال) (١): كان الرجل يتصدق (برذاذة) (٢) ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ } اس شخص سے متعلق نازل ہوئی ہے جو گھٹیا اور ہلکا مال اللہ کی راہ میں صدقہ (زکوٰۃ) کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11098
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11098، ترقيم محمد عوامة 10891)
حدیث نمبر: 11099
١١٠٩٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن السدي عن أبي مالك عن البراء في قوله (تعالى) (١): ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ﴾ قال: نزلت فينا كنا أصحاب نخل فكان الرجل يأتي من نخله بقدر قلته وكثرته، قال: فكان الرجل يأتي بالقنو والرجل يأتي بالقنوين، فيعلقه في المسجد (قال) (٢): وكان أهل الصفة ليس لهم طعام (قال) (٣) فكان أحدهم إذا جاء إلى القنو (فيضربه) (٤) بعصا، فيسقط منه التمر والبسر، فيأكل وكان أناس ممن لا يرغب في الخير، فيأتي أحدهم بالقنو فيه الحشف وفيه الشيص، ويأتي بالقنو قد انكسر، فيعلقه قال: فأنزل اللَّه: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [البقرة: ٢٦٧]، قال: لو أن أحدكم أهدي إليه مثل ما أعطى لم يأخذه إلا على إغماض وحياء. قال: فكان بعد ذلك يأتي الرجل بصالح ما عنده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ } ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ ہماری قوم کھجوروں والی تھی۔ ہم میں سے (ہر شخص) قلت اور کثرت کی بقدر کھجوریں لایا کرتا۔ پس کوئی شخص ایک خوشہ اور کوئی دو خوشے لا کر مسجد میں لٹکا دیتا، اصحاب صفہ کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا ان میں سے کوئی شخص آتا اور لاٹھی سے کھجور کے خوشہ پر ضرب لگاتا تو اس میں خشک اور تر کھجوریں گرتیں جن کو وہ کھا لیتا، کچھ لوگ (ہم میں سے) خیر کے کاموں کی طرف راغب نہ تھے وہ خراب اور فاسد کھجوروں کا خوشہ لے کر آتے اور اس کو مسجد میں لٹکا دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیت { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہ } نازل فرمائی۔ اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص جو کچھ ادا کرتا ہے اگر اس کے مثل اس کو ہدیہ کیا جائے تو وہ اس کو ہلکا سمجھتے ہوئے آنکھیں بند کر کے حیاء کی وجہ سے لیتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہر شخص ہم میں سے عمدہ اور اچھا مال صدقہ کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11099
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ السدي صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11099، ترقيم محمد عوامة 10892)