حدیث نمبر: 11078
١١٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن بشر العبدي قال: (حدثنا) (٢) هشام بن (سعد) (٣) قال: حدثني عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رجل: يا رسول اللَّه ما كان في الطريق (غير الميتاء) (٤) أو القرية المسكونة، قال: "فيه وفي الركاز الخمس" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! جو چیز ہمیں غیر آباد راستے اور غیر آباد جگہ (گاؤں وغیرہ) سے ملے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس میں اور مدفون خزینے میں خمس ہے۔
حدیث نمبر: 11079
١١٠٧٩ - [حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال: في الركاز الخمس] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مدفون خزانے میں خمس ہے۔
حدیث نمبر: 11080
١١٠٨٠ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين عن أبي هريرة مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 11081
١١٠٨١ - حدثنا عبد الرحيم عن (ابن) (١) (أبي) (٢) خالد وزكريا عن الشعبي أن النبي ﷺ قال: "في الركاز الخمس" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدفون خزینے میں خمس ہے۔
حدیث نمبر: 11082
١١٠٨٢ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث (عن ابن سيرين) (١) عن أبي هريرة عن النبي ﷺ مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 11083
١١٠٨٣ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن الشعبي أن غلامًا من العرب وجد (ستوقة) (١) فيها عشرة آلاف فأتى بها عمر، فأخذ منها خمسها ألفين وأعطاه ثمانية آلاف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ عرب کے ایک غلام کو کچھ پیسے ملے جن کی مالیت دس ہزار تھی، وہ غلام وہ پیسے لے کر حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس میں سے دو ہزار خمس وصول فرما لیا اور باقی آٹھ ہزار اس کو واپس کردیئے۔
حدیث نمبر: 11084
١١٠٨٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أن رجلًا وجد في (خربة) (١) ألفًا وخمسمائة، فأتى عليًا فقال: أد (خمسها) (٢) ولك ثلاثة أخماسها وسنطيب لك الخمس الباقي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ ایک شخص کو ویران جگہ سے پندرہ سو (درہم) ملے وہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا اس کا خمس ادا کرو اور اس کے تین خمس تیرے لئے ہیں۔ اور عنقریب ہم باقی خمس تیرے لئے پاک کردیں گے۔
حدیث نمبر: 11085
١١٠٨٥ - حدثنا معتمر عن (عمر) (١) الضبي قال: بينا قوم عندي (بسابور) (٢) (يلتون) (٣) أو يثيرون الأرض إذ أصابوا كنزًا وعليها محمد بن جابر الراسبي، فكتب فيه إلى عدي، فكتب عدي إلى عمر بن عبد العزيز، فكتب عمر أن خذوا (منهم) (٤) الخمس، واكتبوا (لهم) (٥) (البراءة) (٦)، (ودعوا سائره لهم، فدفع إليهم المال وأخذ منه الخمس) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر الضبی فرماتے ہیں کہ ہمارے مقام سابور میں کسی قوم کے کچھ لوگ زمین کھود رہے تھے، اچانک خزانہ ان کے ہاتھ لگا، ان کے نگران محمد بن جابر الراسبی تھے۔ انہوں نے اس کے بارے میں حضرت عدی کو لکھا، حضرت عدی نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو لکھا، حضرت عمر بن عبد العزیز نے لکھا کہ اس میں سے خمس وصول کرلو اور ان کیلئے براءت لکھ دو اور باقی سب ان کا ہے ان کیلئے چھوڑ دو ۔ (جب یہ مکتوب موصول ہوا تو) انہوں نے مال واپس کردیا اور اس میں سے خمس وصول کرلیا۔
حدیث نمبر: 11086
١١٠٨٦ - حدثنا هشيم عن حصين عمن شهد القادسية (قال) (١): بينما رجل يغتسل إذ فحص له الماء التراب عن لبنة من ذهب، فأتى سعد بن أبي وقاص، فأخبره فقال: اجعلها في (غنائم) (٢) المسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین روایت کرتے ہیں کہ اس شخص سے جو جنگ قادسیہ میں موجود تھے فرماتے ہیں کہ ہم میں ایک شخص تھا وہ غسل کر رہا تھا جب پانی نے زمین پر گر کر اس میں گڑا کھود دیا تو اس میں سے سونے کی اینٹ نکلی۔ وہ شخص وہ لے کر حضرت سعد بن ابی وقاص کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی خبر دی۔ آپ نے فرمایا اس کو مسلمانوں کی غنیمت میں شامل کرلو۔
حدیث نمبر: 11087
١١٠٨٧ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن أبي قيس عبد الرحمن بن (ثروان) (١) عن (هزيل) (٢) قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال: إني وجدت مئين من (الدراهم) (٣)، فقال عبد اللَّه: لا أرى (المسلمين) (٤) بلغت أموالهم، هذا أراه ركاز؛ ⦗٤١٦⦘ مال عادي، فأد خمسه في بيت المال و (لك) (٥) ما بقي (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھزیل سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے دو سو دراھم ملے ہیں، حضرت عبد اللہ نے ان سے فرمایا کہ میرا خیال نہیں ہے مسلمانوں کا مال تجھے ملا ہو بلکہ میرا خیال ہے کہ یہ قدیم مدفون مال ہے تو اس میں سے خمس بیت المال مں ا ادا کر دے اور باقی سارا مال تیرا ہے۔
حدیث نمبر: 11088
١١٠٨٨ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن قال: الركاز الكنز العادي وفيه الخمس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رکاز بھی قدیم خزانہ ہے اور اسمیں بھی خمس ہے۔
حدیث نمبر: 11089
١١٠٨٩ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن الحسن قال: إذا وجد الكنز في أرض العدو ففيه الخمس وإذا وجد في أرض العرب ففيه الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر خزانہ دشمن کی زمین سے ملے تو اس میں خمس ہے اور اگر عرب کی زمین سے ملے تو اس میں زکاۃ ہے۔
حدیث نمبر: 11090
١١٠٩٠ - حدثنا غندر (عن شعبة) (١) عن إبراهيم بن المنتشر عن أبيه أن رجلًا سأل عائشة فقال: إني وجدت كنزًا، فدفعته إلى السلطان، فقالت: في فيك (الكتكت) (٢) أو كلمة نحوها، الشك مني (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن المنتشر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ مجھے خزانہ ملے تو کیا میں وہ حکمران کے سپرد کر دوں ؟ آپ نے فرمایا تیرے منہ میں خاک یا اس سے ملتا جلتا کلمہ ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ شک میری طرف سے ہے۔
حدیث نمبر: 11091
١١٠٩١ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "في الركاز الخمس" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رکاز میں (بھی) خمس ہے۔
حدیث نمبر: 11092
١١٠٩٢ - حدثنا خالد بن مخلد عن (كثير بن) (١) عبد اللَّه المزني (عن أبيه) (٢) عن ⦗٤١٧⦘ جده عن النبي ﷺ قال: "في الركاز الخمس" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ المزنی اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رکاز میں خمس ہے۔
حدیث نمبر: 11093
١١٠٩٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن إسرإئيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: قضى النبي ﷺ في الركاز الخمس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکاز میں خمس کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 11094
١١٠٩٤ - حدثنا الفضل (بن دكين) (١) قال: نا عمر بن الوليد (الشني) (٢) عن عكرمة قال: سئل عن رجل وجد مطمورة (قال) (٣): أد خمسها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے زمین سے زخیرہ شدہ مال پایا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کا خمس ادا کرو۔