کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اونٹوں کی زکوٰۃ کے بارے میں سیدنا ابو بکر، عمر اور عثمان سے جو منقول ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 11054
١١٠٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عبد اللَّه بن المستورد قال: سمعت أبا قلابة يحدث (١) عمر بن عبد العزيز قال: بعث ⦗٤٠٥⦘ أبو بكر (الصديق) (٢) المصدقين، فأمرهم أن يبيعوا الجذعة بأربعين والحقة بثلاثين وابن لبون بعشرين وبنت (مخاض) (٣) بعشرة، فانطلقوا، فباعوا ما باعوا بقيمة أبي بكر، ثم رجعوا حتى إذا كان العام المقبل بعثهم، فقالوا: لو شئنا أن (نزداد) (٤) (٥) (ازددنا) (٦) (٧) فقال: زيدوا في كل سن عشرة. فلما (٨) كان العام المقبل بعثهم، فقالوا: لو شئنا أن نزداد ازددنا شيئًا. فلما ولي عمر بعث عماله بقيمة أبي بكر الآخرة حتى إذا كان العام المقبل قال العمال: لو شئنا أن نزداد ازددنا (فقال: زيدوا في كل سن عشرة، حتى إذا كان العام المقبل بعثهم بالقيمة الآخرة. فقالوا: لو شئنا أن نزداد (ازددنا)) (٩) (١٠)، قال: لا. حتى إذا ولي عثمان بعث بقيمة عمر الآخرة حتى إذا كان العام المقبل قالوا: لو شئنا أن نزداد ازددنا. قال: زيدوا في كل سن عشرة، حتى إذا كان (العام) (١١) المقبل قالوا: لو شئنا أن نزداد ازددنا، قال: لا. فلما ولي معاوية بعث بقيمة عثمان الآخرة، فلما كان العام المقبل قالوا: لو شئنا أن نزداد ازددنا، (قال: زيدوا في كل سن عشرة، حتى إذا كان العام المقبل؛ قالوا: لو شئنا ⦗٤٠٦⦘ أن نزداد (ازددنا) (١٢) ((١٣). قال: خذوا الفرائض بأسنانها ثم سموها، وأعلنوها، ثم (خالسوهم) (١٤) (البيع) (١٥) فما استطاعوا (أن ينتقصوا) (١٦) وما استطعتم أن تزدادوا فازدادوا، قال عبد اللَّه: فرأيت عمر بن عبد العزيز كأنه (لم) (١٧) ير بذلك بأسًا، فقال لأبي قلابة: فكيف كانت صدقة الغنم؟ قال: كانت الصدقة تؤخذ (فتقسم) (١٨) في فقراء أهل البادية حتى إذا كان عبد الملك بن مروان أمر بها، فقسمت أخماسًا، فجعل للمسكينة خمسًا منها، ثم لم يزل ذلك إلى اليوم (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن المستورد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ کو حضرت عمر بن عبد العزیز کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ : حضرت صدیق اکبر نے صدقہ وصول کرنے والوں کو (مختلف شہروں کی طرف) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ وہ جذعہ کو چالیس، حقہ کو تیس، ابن لبون کو بیس اور بنت مخاض کو عشرۃ کے بدلے فروخت کردو۔ چناچہ صدقہ وصول کرنے والے چل پڑے اور انہوں نے اس قیمت پر ان کو فروخت کیا جو حضرت ابوبکر نے مقرر فرمائی تھی پھر واپس آگئے پھر جب آئندہ سال ان کو دوبارہ بھیجنے لگے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم اس قیمت میں کچھ اضافہ کرلیں، آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلینا۔ پھر آئندہ سال جب ان کو بھیجنے لگے تو انہوں نے عرض کیا : اگر ہم چاہیں تو اس میں اضافہ کرلیں۔ پھر جب حضرت عمر فاروق خلیفہ بنے تو آپ نے حضرت صدیق اکبر کی مقرر کردہ آخری قیمت پر عاملوں کو (مختلف شہروں میں) بھیجا۔ پھر آئندہ سال آیا تو عاملوں نے عرض کیا : اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں گے۔ آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلیا کرو۔ پھر جب اگلے سال ان عاملوں کو بھیجا تو وہ پھر کہنے لگے اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں آپ نے فرمایا نہیں اب اضافہ نہیں کرنا۔ پھر جب حضرت عثمان غنی خلیفہ بنے تو آپ نے حضرت عمر کی مقرر کردہ آخری قیمت پر اپنے عامل روانہ فرمائے پھر جب اگلا سال آیا تو عامل کہنے لگے کہ اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں، آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلو۔ پھر آئندہ سال جب آیا تو انہوں نے (پھر) عرض کیا کہ اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر جب حضرت امیر معاویہ امیر مقرر ہوئے تو انہوں نے حضرت عثمان غنی کی مقرر کردہ آخری قیمت پر بھیجے۔ پھر جب اگلا سال آیا تو عامل کہنے لگے اگر ہم اس میں کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو کرلیں۔ آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلو۔ پھر آئندہ سال انہوں نے کہا اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں۔ آپ نے فرمایا فرائض کو ان کی عمر کے حساب سے لے لو پھر ان کے نام رکھو اور ان کا اعلان (مشہور کردو) کرواؤ۔ پھر ان کو فوراً بیچ دو ۔ اگر تو کم کرنے کی طاقت رکھو (تو کم کردو) اور اگر تم قیمت زیادہ کرنے کی طاقت رکھو تو زیادہ کرلو۔ راوی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو دیکھا کہ وہ اس میں کچھ بھی حرج نہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے حضرت ابو قلابہ سے فرمایا کہ بکریوں کی زکوٰۃ کیسے وصول کریں ؟ آپ نے فرمایا زکوٰۃ وصول کر کے دیہات (اور جنگل) کے فقراء میں تقسیم کردو۔ پھر حضرت عبد الملک بن مروان نے اس کا حکم دیا اور خمس خمس کر کے اس کو تقسیم کیا۔ اور (ہر) مسکین کے لئے اس میں خمس رکھا جو آج تک مسلسل جاری ہے۔