حدیث نمبر: 11003
١١٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: (حدثنا) (٢) سفيان عن المغيرة بن النعمان عن عبد اللَّه (٣) بن الأقنع الباهلي عن الأحنف بن قيس قال: كنت جالسًا في (مسجد) (٤) في المدينة، فأقبل رجل لا (تراه) (٥) حلقة إلا فروا منه ⦗٣٨٧⦘ حتى انتهى إلى الحلقة التي كانت فيها، فثبّت وفروا، (فقلت) (٦) من أنت قال: أبو ذر صاحب رسول اللَّه ﷺ، قال: (فقلت) (٧): ما يفر الناس منك؟ قال: إني أنهاهم عن (الكنوز) (٨)، قال: قلت: إن أعطياتنا قد بلغت وارتفعت (فتخاف) (٩) علينا منها قال: (أما) (١٠) اليوم فلا، ولكنها يوشك أن تكون أثمان دينكم (فدعوهم) (١١) وإياها (١٢).
حدیث نمبر: 11004
١١٠٠٤ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن (زيد) (١) بن وهب قال: مررنا على أبي ذر بالربذة، (فسألناه) (٢) عن منزله، قال: كنت بالشام، فقرأت هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [التوبة: ٣٤]، فقال معاوية: إنما هي (في) (٣) أهل الكتاب فقلنا: إنها لفينا وفيهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ تعالیٰ اس شخص کو عام عذاب نہیں دیگا جو مال یوں جمع کرتا ہے بلکہ اس کی کھال کو پھیلا جائے گا اور ہر درہم اور دینار کو اس کی کھال پر رکھا جائے گا کہ کوئی درہم درہم کو نہ چھوئے اور دینار دینار کو نہ چھوئے۔
حدیث نمبر: 11005
١١٠٠٥ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق عن عبد اللَّه قال: والذي لا إله غيره لا يعذب اللَّه رجلًا ويكنز فيمس درهم (درهمًا) (١) ولا دينار (دينارًا) (٢)، ولكن يوسع (اللَّه) (٣) جلده حتى يوضع كل (درهم ودينار) (٤) على حدته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ سے سنا وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک اژدھا کو طوق بنا کر ان کے گلے میں ڈالا جائے گا، اس کے منبر پر دو سیاہ نشان ہوں گے وہ پھنکارے گا اور کہے گا میں تیرا وہی مال ہوں جس میں تو بخل کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 11006
١١٠٠٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن أبي وائل قال: سمعت عبد اللَّه يقول في قوله تعالى: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران: ١٨٠]، قال: (يطوقون) (١) (ثعبانًا) (٢) بفيه (زبيبتان) (٣) (ينهشه) (٤) يقول أنا مالك الذي بخلت (به) (٥) (٦).
حدیث نمبر: 11007
١١٠٠٧ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: (حدثنا) (١) عبد الملك (بن) (٢) أبي سليمان عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من صاحب إبل ولا ⦗٣٨٩⦘ بقر ولا غنم (٣) لا يؤدي حقها إلا (أقعد) (٤) لها يوم القيامة بقاع قرقر، تطأه ذات الظلف بظلفها، (وتنطحه) (٥) ذات القرن بقرنها وليس فيها يومئذٍ جماء ولا مكسورة القرن"، (قالوا) (٦): يا رسول اللَّه وما حقها؟ قال: "إطراق فحلها وإعارة دلوها ومنيحتها و (حلبها) (٧) على الماء وحمل عليها في سبيل اللَّه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی اونٹوں، گائے اور بکریوں والا شخص جس نے ان کا حق ادا نہیں کیا رکھا جائے گا قیامت کے دن برابر اور چٹیل میدان میں، جہاں ہر کھر والا جانور اس کو کھروں سے روندے گا اور ہر سینگ والا جانور اس کو سینگ سے مارے گا، اس دن کوئی جانور ایسا نہ ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں یا ٹوٹے ہوئے ہوں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ان کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جفتی کیلئے اونٹ کسی کو (عاریۃ) دے دینا، اور اس کے ڈول کا عاریۃ دینا، اور اس کو کسی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے عاریۃ دینا، اور اونٹنی کا دودھ پانی کے گھاٹ کے پاس نکالنا (تاکہ مساکین بھی پی سکیں) اس کے دودھ کو پانی سے دور رکھنا، اور اس پر اللہ تعالیٰ کے راستہ میں سواری کرنا۔
حدیث نمبر: 11008
١١٠٠٨ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني موسى بن عبيدة قال: حدثني عمران بن أبي أنس عن مالك بن أوس بن الحدثان عن أبي ذر قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ أو حبيبي يقول: "في الإبل صدقتها، من جمع دينارًا أو درهمًا أو تبرًا أو فضة ولا يعده لغريم ولا ينفقه في سبيل اللَّه فهو كي يكوى به يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنایا فرمایا کہ میں نے اپنے محبوب سے سنا وہ فرماتے ہیں : اونٹ (کا حق) اس کا صدقہ کرنا ہے، جس نے دینار یا درہم جمع کیا یا چاندی جمع کی خواہ ڈلی ہو یا ثابت اور اس کو مہیا نہیں کیا گیا قرض خواہ کیلئے اور نہ ہی اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا تو وہ داغنے (کا آلہ ہے) قیامت کے دن اس سے داغا جائے گا۔
حدیث نمبر: 11009
١١٠٠٩ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم (في قوله تعالى) (١): ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران: ١٨٠] قال: طوق من نار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اللہ تعالیٰ کے ارشاد { سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ آگ کا طوق ہوگا۔
حدیث نمبر: 11010
١١٠١٠ - حدثنا (خلف) (١) بن خليفة عن أبي هاشم عن أبي وائل عن مسروق في قوله (تعالى) (٢): ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾. قال: هو الرجل يرزقه ⦗٣٩٠⦘ اللَّه المال فيمنع قرابته الحق الذي جعل اللَّه لهم فيه، فيجعل حية فيطوقها، فيقول: مالي ومالك، (فتقول) (٣) الحية: أنا مالك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق اللہ پاک کے ارشاد { سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے وہ شخص مراد ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال کی نعمت عطا فرمائی لیکن اس نے قرابت دار کو اسکا حق ادا نہ کیا، تو وہ مال اسکے لئے سانپ بنادیا جائے گا جس کا اس کو طوق پہنایا جائے گا، تو وہ کہے گا، میرے اور تیرے درمیان کیا تعلق ہے ؟ (یعنی تو مجھ کو کیوں چمٹ گیا ہے ؟ ) سانپ اس سے کہے گا میں تیرا مال ہوں۔