کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: سوال کرنے سے استغناء کرنا، کہا گیا ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 10995
١٠٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن هشام بن عروة عن أبيه عن حكيم بن (حزام) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من يستغن يغنه اللَّه، ومن يستعفف يعفه اللَّه، واليد العليا خير من اليد السفلى" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 10996
١٠٩٩٦ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد وعروة عن حكيم بن (حزام) (١) عن النبي ﷺ قال: "اليد العليا خير من اليد السفلى" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک دن بھوک کی وجہ سے میں نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھ لی، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص پاکدامنی اختیار کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاکدامن رکھتا ہے اور جو استغناء چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو مستغنی فرما دیتا ہے اور جس نے ہم سے سوال کیا یا تو ہم اس کو خرچہ دے دیں گے یا اس کی امداد کردیں گے۔ (لیکن) جو مستغنی اور (سوال کرنے سے) پاکدامن رہا ہم سے یہ بہتر ہے اس سے کہ ہم سے سوال کرے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں واپس لوٹ گیا اور کسی چیز کا سوال نہ کیا۔
حدیث نمبر: 10997
١٠٩٩٧ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت أبا حمزة يحدث عن هلال بن (حصن) (١) قال: نزلت دار أبي سعيد، فضمني وإياه (٢) المجلس، فحدثني أنه أصبح ذات يوم وقد (عصب) (٣) على بطنه من الجوع قال: فأتيت النبي ﷺ فأدركت من قوله وهو يقول: "من يستعفف يعفه اللَّه، ومن يستغن يغنه اللَّه، ومن سألنا إما أن نبذل له وإما أن نواسيه، (ومن) (٤) يستغن (أو) (٥) يستعفف عنا خير (له) (٦) من أن ⦗٣٨٥⦘ يسألنا"، قال: فرجعت فما سألته شيئًا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں سے سوال کرنے سے مستغنی رہو اگرچہ مسواک کا وہ ریزہ ہی کیوں نہ ہو جو دانتوں میں پھنسا ہو۔
حدیث نمبر: 10998
١٠٩٩٨ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن (عبد الرحمن) (١) بن أبي ليلى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "استغن عن الناس ولو (بقصمة) (٢) (سواك) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن لیلیٰ سے اسی کے مثل منقول ہے لیکن انہوں نے مرفوعا روایت نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 10999
١٠٩٩٩ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير عن الأعمش عن الحكم عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى (١) بمثله ولم يرفعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اوپر والے ہاتھ سے مراد وہ ہاتھ ہے جو سوال کرنے سے بچا رہا۔
حدیث نمبر: 11000
١١٠٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر قال: كنا نتحدث أن اليد العليا هي المتعففة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اور بہتر صدقہ وہ ہے جو غنیٰ کو باقی رکھے اور اور ان لوگوں سے ابتدا کر جو تیری کفالت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 11001
١١٠٠١ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم بن كليب عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اليد العليا خير من اليد السفلى وخير (الصدقة) (١) ما أبقت غنى وابدأ بمن تعول" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن زھدم سے مروی ہے کہ ثعلبہ کی قوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور لینے والا ہاتھ نیچے والا ہے اور دینے میں ان لوگوں سے ابتدا کر جو تیری کفالت میں ہیں۔ تیری ماں، تیرا باپ، تیری بہن، تیرا بھائی، جو تیرا قریبی ہے اور جو اس سے قریبی ہے۔
حدیث نمبر: 11002
١١٠٠٢ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام قال: ثنا سفيان عن أشعث بن أبي الشعثاء عن أسود بن هلال عن ثعلبة بن زهدم قال: انتهى قوم (من) (٢) ثعلبة إلى النبي ﷺ وهو يخطب وهو (يقول) (٣): "يد المعطي العليا ويد السائل السفلى، وابدأ بمن تعول أمك وأباك وأختك وأخاك (وأدناك فأدناك) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی شریف میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص مسجد میں آیا، مسجد میں موجود جو حلقہ بھی اسے دیکھتا اس سے بھاگتا۔ یہاں تک وہ آخری تک پہنچا کہ جس میں، میں تھا، لوگ تو بھاگ گئے لیکن میں وہاں ہی ثابت قدم موجود رہا۔ میں ان سے پوچھا آپ کون ہیں ؟ وہ فرمانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ابو ذر ، میں نے عرض کیا کہ لوگ آپ سے کیوں بھاگتے ہیں ؟ فرمایا اس لئے کہ میں ان کو خزانے (جمع کرنے سے) روکتا ہوں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ہمارے مالوں اور خزانوں کے زیادہ ہونے سے پریشان ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں البتہ ہوسکتا ہے کہ یہ مال و دولت ایک دن تمہارے لیے دین سے دوری کا باعث بن جائے۔