کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سوال کرنے کی ممانعت اور اس پر وعید اور تشدید
حدیث نمبر: 10976
١٠٩٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى (بن عبد الأعلى) (١) عن معمر عن عبد اللَّه بن مسلم أخي الزهري عن (حمزة) (٢) بن عبد اللَّه عن أبيه أن النبي ﷺ قال: "لا تزال المسألة بأحدكم حتى يلقى اللَّه وليس في وجهه (مُزْعَةُ) (٣) لحم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر سوال کرنے والا (مانگنے والا) جان لے جو اس پر وعیدیں ہیں تو وہ (کبھی بھی) سوال نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10976
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٤٧٤) ومسلم (١٠٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10976، ترقيم محمد عوامة 10771)
حدیث نمبر: 10977
١٠٩٧٧ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن قابوس (عن أبيه) (١) عن ابن عباس قال: لو يعلم صاحب المسألة ما فيها ما سأل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ جو لوگ بغیر فاقہ کے سوال کرتے ہیں وہ لوگ قیامت کے دن اس حال میں ہوں گے کہ اپنے چہرے کو لکڑی یا ناخون سے چھیل رہے ہوں (کھرچ رہے ہوں) گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10977
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ قابوس فيه لين.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10977، ترقيم محمد عوامة 10772)
حدیث نمبر: 10978
١٠٩٧٨ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن مسروق قال: من سأل الناس من غير فاقة، جاء يوم القيامة وفي وجهه خدوش أو خموش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے مروی ہے حضرت ام الدرداء نے حضرت ابو الدرداء سے فرمایا کہ اگر میں آپ کے بعد محتاج ہوگئی تو کیا میں صدقہ و زکوٰۃ (سوال کر کے) کھا سکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں، کام کرنا اور کھانا، انہوں نے پھر فرمایا اگر میں کام کرنے عاجز آگئی ضعف کی وجہ سے تو ؟ آپ نے فرمایا گیہوں کے خوشے چن لینا لیکن صدقہ و زکوٰۃ (ہرگز سوال کر کے) نہ کھانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10978
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10978، ترقيم محمد عوامة 10773)
حدیث نمبر: 10979
١٠٩٧٩ - حدثنا ابن نمير عن عمرو بن ميمون قال: قالت أتم الدرداء (لأبي ⦗٣٧٨⦘ الدرداء) (١) (إن) (٢) احتجت بعدك آكل الصدقة؟ قال: (لا) (٣)، اعملي وكلي؟ قالت: (إن) (٤) ضعفت عن العمل، قال: (التقطي) (٥) السنبل ولا تأكلي الصدقة (٦)؟.
مولانا محمد اویس سرور
آدمی کا ہر سوال قیامت کے دن اس کے چہرہ میں ایک نشان ہوگا الا یہ کہ وہ بادشاہ سے یا کسی بہت ضروری حاجت کی وجہ سے سوال کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10979
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10979، ترقيم محمد عوامة 10774)
حدیث نمبر: 10980
١٠٩٨٠ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد الملك (بن) (١) عمير عن عقبة (أو فلان بن عقبة) (٢) عن ابن (جندب) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (كل) (٤) المسألة كد في وجه الرجل يوم القيامة إلا أن (يسأل) (٥) سلطانًا أو في أمر لا بد منه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرے مال کی زیادتی کے لئے تو بیشک وہ انگارے کا سوال کر رہا ہے پس چاہے تو اس انگارے کو کم کرلے یا چاہے تو زیادہ کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10980
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وشيخ عبد الملك هو زيد بن عقبة ثقة، وأخرجه أحمد (٢٠١٠٦)، والترمذي (٦٨١)، والنسائي ٥/ ١٠٠، وأبو داود (١٦٣٩)، وابن حبان (٣٣٨٦)، والطحاوي ٢/ ١٨، والطبراني (٦٧٦٩)، والبغوي (١٦٢٤)، والبيهقي ٤/ ١٩٧، والمزي ١٠/ ٩٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10980، ترقيم محمد عوامة 10775)
حدیث نمبر: 10981
١٠٩٨١ - حدثنا ابن فضيل عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سأل الناس أموالهم (تكثرًا) (١) فإنما (يسأل) (٢) ⦗٣٧٩⦘ جمرة (فليستقل) (٣) منه أو (ليستكثر) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبشی السلولی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص لوگوں سے اپنا مال زیادہ کرنے کے لیے سوال کرتا ہے تو یہ سوال اس کے چہرہ میں خراش اور جہنم کا گرم پتھر ہے جس کو بروز قیامت کھائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٠٤١)، وأحمد (٧١٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10981، ترقيم محمد عوامة 10776)
حدیث نمبر: 10982
١٠٩٨٢ - حدثنا ابن نمير عن مجالد عن الشعبي (عن (حبشي) (١) السلولي) (٢) قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: (من سأل الناس (ليثري به) (٣) ماله فإنه خموش في وجهه ورضف من جهنم يأكله (يوم القيامة) " (٤)، وذلك في حجة الوداع (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جو لوگوں سے سوال کرے تا کہ ان کے مال سے مالدار ہوجائے بیشک اس کیلئے جہنم کے گرم پتھر ہیں، پس جو چاہے تو پتھر کم کرلے اور جو چاہے تو زیادہ کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10982
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه الترمذي (٦٥٣)، والبخاري في التاريخ ٣/ ١٢٧، وابن معين في التاريخ ٣/ ١٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥١٢)، والطبراني (٣٥٠٤)، والقزويني في التدوين ٤/ ٦٨، وبنحوه أخرجه ابن خزيمة (٢٤٤٦)، وأحمد (١٧٥٠٨)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٦٣، والطحاوي ٢/ ١٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10982، ترقيم محمد عوامة 10777)
حدیث نمبر: 10983
١٠٩٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن داود عن الشعبي قال: قال عمر: من سأل الناس (ليثري به) (١) ماله، فإنما هو رضف من جهنم، فمن شاء فليقل ومن شاء فليكثر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص رسی لے کر پہاڑ پر آئے اور لکڑیاں جمع کر کے ان کو فروخت کرے اور اس میں سے کھائے بھی اور صدقہ بھی کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ سوال کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10983
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10983، ترقيم محمد عوامة 10778)
حدیث نمبر: 10984
١٠٩٨٤ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال ⦗٣٨٠⦘ رسول اللَّه ﷺ: "لئن يأخذ أحدكم (حبلًا) (١) فيأتي الجبل (فيحتطب) (٢) منه فيبيعه ويأكل ويتصدق خير من أن يسأل الناس" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص رسی لے کر جائے اور اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا لے کر آئے اور انکو فروخت کرے پس اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے اس کے چہرے کو روکے گا، بہتر ہے اس کیلئے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال کرے پھر وہ اسکو عطا کریں یا نہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10984
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٤٨٠) ومسلم (١٠٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10984، ترقيم محمد عوامة 10779)
حدیث نمبر: 10985
١٠٩٨٥ - حدثنا ابن نمير عن هشام عن أبيه عن الزبير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لئن يأخذ أحدكم (حبلًا) فيذهب فيأتي بحزمة من حطب (على ظهره) (١) فيبيعها فيكف المئه بها وجهه، خير له من أن يسأل الناس شيئًا أعطوه أو منعوه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل فرماتے ہیں کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے کثرت کے لئے وہ قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ وہ اپنے چہرے کو نوچ رہا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10985
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٧٥) وأحمد (١٤٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10985، ترقيم محمد عوامة 10780)
حدیث نمبر: 10986
١٠٩٨٦ - حدثنا محمد بن بشر والفضل بن دكين عن مسعر عن عبيد بن الحسن عن ابن (معقل) (١) قال: من سأل تكثرًا جاء يوم القيامة وفي وجهه خموش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ذر کے پاس ایک سائل آیا تو آپ نے اس کو کچھ عطا فرمایا، آپ کو (لوگوں نے) کہا آپ نے اسکو (کیوں) دیا حالانکہ وہ تو خوشحال ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ سائل ہے اور ہر سوال کرنے والوں کا حق ہوتا ہے اور وہ قیامت کے دن ضرور تمنا کریں گے (کہ وہ سوال نہ کرتے) بیشک ان کے ہاتھ میں (قیامت کے دن) گرم پتھر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10986
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10986، ترقيم محمد عوامة 10781)
حدیث نمبر: 10987
١٠٩٨٧ - حدثنا حفص وأبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن ابن أبي ليلى قال: (جاء) (١) سائل فسأل (أبا ذر) (٢) فأعطاه شيئًا فقيل له تعطيه وهو موسر فقال: إنه سائل وللسائل حق، وليتمنين يوم القيامة أنها كانت رضفة في يده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پہنچا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اس حال میں سوال کرے کہ اس کے پاس چالیس درہم یا اس کے برابر مال ہو پس وہ لوگوں سے چمٹ کر، پیچھے پڑ کر سوال کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10987
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10987، ترقيم محمد عوامة 10782)
حدیث نمبر: 10988
١٠٩٨٨ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن (زيد) (٢) بن (أسلم) (٣) عن عطاء بن يسار ⦗٣٨١⦘ (يبلغ) (٤) به النبي ﷺ: "من سأل وله أوقية أو عدلها فهو يسأل الناس إلحافًا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زکوٰۃ کسی غنی کے لیے حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے، یا تو وہ اللہ کے راستہ میں ہو، یا وہ مسافر ہو، یا اس کے کسی پڑوسی کو زکوٰۃ دی گئی ہو اور وہ س کو ہدیہ کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10988
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، وقد رواه متصلًا عن رجل من بني أسد؛ أحمد (١٦٤١١) وأبو داود (١٦٣٧) والنسائي ٥/ ٩٨ والطحاوي ٢/ ٢١ والبغوي (١٦٠١) وأبو عبيد في الأموال (١٧٣٤) ومالك ٢/ ٩٩٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10988، ترقيم محمد عوامة 10783)