حدیث نمبر: 10971
١٠٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن (ريحان) (٢) بن يزيد عن عبد اللَّه بن عمرو (قال) (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحل الصدقة لغني ولا الذي مِرَّة سويٌ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صدقہ غنی اور قوی کیلئے حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 10972
١٠٩٧٢ - [حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين (عن سالم) (١) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحل الصدقة لغني ولا الذي مِرَّ سوي] (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبشی بن جنادہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ سوال کرنا غنی اور قوی کے لئے جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 10973
١٠٩٧٣ - [حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن (حبشي) (٢) بن ⦗٣٧٦⦘ جنادة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "المسألة (لا) (٣) تحل لغني ولا لذي مِرَّة سوي] (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ مجھے دو آدمیوں نے خبر دی کہ وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ (زکوٰۃ) کا سوال کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ نے تیزی سے نظروں کو ان کے لئے اٹھایا اور ان کو درست کیا اور فرمایا تم دونوں تو قوی اور صحت مند ہو۔ پھر فرمایا اگر تم چاہو تو میں تم دونوں کو عطا کر دوں، (لیکن) غنی اور کمانے والے قوی کے لئے کوئی حصہ (صدقات و زکوٰۃ میں) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10974
١٠٩٧٤ - حدثنا عبد الرحيم (و) (١) ابن نمير عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبيد اللَّه بن عدي بن (الخيار) (٢) قال: (أخبرني) (٣) رجلان أنهما أتيا النبي ﷺ يسألانه (من) (٤) الصدقة قال: فرفع فيهما البصر وصوبه، (فقال) (٥) إنكما (لَجَلِدان) (٦) فقال: " (٧) إن شئتما أعطيتكما ولا حظ (فيها) (٨) لغني ولا لقوي (مكتسب) (٩) " (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غنی اور قوت والے کے لئے صدقہ (زکوٰۃ) لینا مناسب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10975
١٠٩٧٥ - حدثنا ابن مهدي عن موسى بن علي عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لا (تنبغي) (١) الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمزہ بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص جو ہمیشہ سوال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ایک حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہیں ہوگا۔