کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غارمین سے کون لوگ مراد ہیں؟
حدیث نمبر: 10967
١٠٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن جابر) (١) عن أبي جعفر (والغارمين) قال: المنفقين في غير فساد (وابن السبيل) المجتاز على الأرض إلى الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ تین طرح کے لوگ غارمین میں سے ہیں۔ ایک وہ شخص جس کا مال سیلاب میں چلا گیا، دوسرا وہ شخص جس کے مال کو آگ لگ گئی، اور تیسرا وہ شخص جس کے اہل و عیال تو ہیں لیکن اس کے پاس مال نہیں ہے۔ اور وہ ادھار لے کر اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10967
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10967، ترقيم محمد عوامة 10762)
حدیث نمبر: 10968
١٠٩٦٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: ثلاثة من الغارمين: رجل ذهب السيل بماله، ورجل أصابه حريق فذهب ماله، ورجل له عيال وليس له مال، فهو يدان وينفق على عياله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ امام کو چاہئے کہ غارم کیلئے کچھ (مال کا) فیصلہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10968، ترقيم محمد عوامة 10763)
حدیث نمبر: 10969
١٠٩٦٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي جعفر قال: الغارم ينبغي الإمام أن يقضي عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اما م زہری سے غارمین کے متعلق دریافت کیا آپ نے فرمایا اس سے مراد قرض والے لوگ اور مسافر ہیں اگرچہ وہ غنی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10969، ترقيم محمد عوامة 10764)
حدیث نمبر: 10970
١٠٩٧٠ - حدثنا الزبيري أبو أحمد قال: حدثنا (معقل) (١) قال: سألت الزهري عن الغارمين قال: أصحاب الدين وابن السبيل وإن كان (غنيًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غنی اور قوی کیلئے صدقہ (زکوٰۃ) حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10970، ترقيم محمد عوامة 10765)