کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی کے پاس مال مضاربۃ ہو تو کیا وہ اس پر زکوٰۃ ادا کرے گا؟
حدیث نمبر: 10965
١٠٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن (١) أبي الزبير عن جابر قال: (سألته) (٢) عن الرجل يسلف إلى أهل ⦗٣٧٤⦘ الأرض (أو) (٣) يكون له الدين أيزكيه؟ قال: نعم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مضاربۃ (مال) پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کو نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا کیا گیا۔
حدیث نمبر: 10966
١٠٩٦٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن الشعبي قال: ليس في مضاربةٍ زكاةُ؛ لأنه لا يدري ما (يصنع) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (والغارمین) سے مراد وہ لوگ ہیں جو بغیر فساد کے خرچ کرتے ہیں اور ابن السبیل سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک زمین سے دوسری زمین (ایک جگہ سے دوسری جگہ) کی طرف چلتے ہیں (سفر کرتے ہیں) ۔