کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غلام کو صدقہ ادا کیا جائے گا کہ نہیں؟
حدیث نمبر: 10960
١٠٩٦٠ - حدثنا عبد الرحيم عن عمرو بن ميمون بن مهران عن زياد بن أبي مريم من أمه قالت: أتيت عبد اللَّه بن الأرقم قال: وكان على بيت المال في إمرة (عمر وفي إمرة) (١) عثمان وهو يقسم صدقة بالمدينة، فلما رآني قال: ما جاء بك يا أم زياد، قالت: قلت (له) (٢): لما جاء له الناس قال: هل عتقت بعد؟ قلت: لا، فبعث إلى بيته، فأتي ببرد، فأمر لي به ولم يأمر لي من الصدقة بشيء؛ لأني كانت مملوكة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مت کھلاؤ ان کالے (غلاموں کو) اپنی قربانیوں میں سے۔ یہ تو اہل مکہ کے اموال ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10960
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10960، ترقيم محمد عوامة 10755)
حدیث نمبر: 10961
١٠٩٦١ - حدثنا وكيع عن (عمر بن ذر) (١) عن مجاهد قال: (لا تطعموا) (٢) هؤلاء السودان من (أضاحيكم) (٣) فإنما (هي) (٤) أموال (أهل) (٥) مكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث سے مروی ہے کہ حضرت سالم بدو غلاموں پر صدقہ کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10961
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10961، ترقيم محمد عوامة 10756)
حدیث نمبر: 10962
١٠٩٦٢ - حدثنا جرير عن ليث عن سالم أنه كره أن يتصدق على عبيد الأعراب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس بن عبد الرحمن المدنی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو عادتیں اپنے اہل میں سے کسی کے سپرد نہ فرماتے تھے۔ ایک یہ کہ مسکین کو اپنے ہاتھ سے عطا فرماتے تھے، اور دوسرا اپنے وضو کا پانی خود رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10962
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10962، ترقيم محمد عوامة 10757)