کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک غلام اگر دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو تو کیا اس پر صدقۃ الفطر ہے؟
حدیث نمبر: 10959
١٠٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الحويرث (عن ⦗٣٧٢⦘ أبي عمار) (١) عن أبي هريرة قال: ليس في المملوك زكاة إلا مملوك تملكه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابو مریم اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ حضرت عبد اللہ بن ارقم کے پاس آئیں۔ وہ حضرت عمر اور حضرت عثمان کی امارت میں بیت المال (کے نگران) تھے۔ اور وہ صدقہ (زکوٰۃ) تقسیم فرما رہے تھے مدینہ والوں کے ساتھ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو فرمایا : اے ام زیاد تو یہاں کیوں آئی ؟ تو میں نے جواب دیا کہ جس مقصد کے لیے باقی لوگ آئے ہیں میں بھی اس ہی مقصد سے آئی ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تو آزاد ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں، تو انہوں نے کسی کو گھر بھیجا جو چادر لے کر آیا۔ آپ نے وہ مجھے دے دی۔ لیکن صدقہ (زکوٰۃ) میں سے کچھ نہ دیا۔ کیونکہ میں اس وقت مملوکہ تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10959
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي الحويرث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10959، ترقيم محمد عوامة 10754)