حدیث نمبر: 10956
١٠٩٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (بشر) (١) بن مفضل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن أبيه عن عبد الرحمن بن عمرو بن (سهل) (٢) قال: لقد رأيت عثمان في طريق مكة وإن (الصدقة) (٣) (لتساق) (٤) معه، فيحمل عليها (الراجل) (٥) (المنقطع به) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریک بن نملہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات و زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا، میرا بھائی بھی میرے ساتھ ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کو اونٹ پر سوار کردیا، میں نے کہا اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اجازت دیدی تو ٹھیک ہے وگرنہ یہ میرے مال مں ے سے ہے۔ جب میں واپس تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بھائی کا قصہ سنایا آپ نے فرمایا : اس میں تیرا بھی حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 10957
١٠٩٥٧ - حدثنا شريك عن (جابر) (١) عن شريك (بن) (٢) نملة (قال) (٣): ⦗٣٧١⦘ بعثني علي ساعيًا على الصدقة قال: فصحبني أخي، فتصدقت، قال: فحملت أخي على بعير فقلت: إن (أجازه) (٤) علي وإلا فهو من مالي، فلما قدمت (عليه) (٥) قصصت عليه قصة أخي فقال: لك فيه (نصيب) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت اسلم کو زکوٰۃ کے اونٹ دے کر حمی مقام کی طرف بھیجا۔ فرماتے ہیں کہ جب میں واپس لوٹنے لگا تو فرمایا ان کو میرے سامنے پیش کر، میں نے اس حال میں پیش کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی پر میرا سامان تھا۔ آپ نے (غصہ میں) فرمایا تیری ماں نہ رہے۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اونٹنی کے ذریعہ مسلمانوں کے اہل بیت کو زندہ کیا جائے تو نے اس پر اپنا سامان لاد دیا کیا بہت زیادہ پیشاب کرنے والا ابن لبون یا کم دودھ دینے والی اونٹنی نہ تھی (اس کا م کیلئے) ۔
حدیث نمبر: 10958
١٠٩٥٨ - حدثنا ابن عيينة عن يحيى بن سعيد عن سالم عن أسلم أن عمر بعثه بإبل من الصدقة إلى الحمى، فلما أردت أن أصدر قال: أعرضها علي؟ فعرضتها عليه وقد (حملت) (١) جهازي على ناقة منها، فقال: لا أمّ لك عمدت إلى ناقة (تحيي) (٢) أهل بيت من المسلمين تحمل عليها جهازك (أفلا) (٣) ابن لبون (بوّال) (٤) أو ناقة (شصوص) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ غلاموں پر صدقہ نہیں ہے مگر وہ غلام جس کا (تنہا) تو مالک ہے۔