کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: صدقات (زکوٰۃ) اغنیاء سے لیکر فقراء میں تقسیم کر دیئے جائیں گے
حدیث نمبر: 10952
١٠٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن أشعث بن سوار عن عون ابن أبي جحيفة عن أبيه قال: بعث رسول اللَّه ﷺ فينًا ساعيًا فأخذ الصدقة من أغنيائنا، فقسمها في فقرائنا وكنت غلامًا يتيمًا فأعطاني منها قلوصًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فاروق سے دریافت کیا گیا کہ دیہاتیوں کے صدقات کے ساتھ کیا کیا جائے۔ (کہاں خرچ کیے جائیں ؟ ) آپ نے فرمایا خدا کی قسم میں صدقات کو ان پر لوٹاتا رہوں گا یہاں تک کہ ان میں سے کسی ایک کے پاس شام کے وقت سو اونٹنیاں یا سو اونٹ ہوں۔
حدیث نمبر: 10953
١٠٩٥٣ - حدثنا عبد الرحيم عن حجاج عن عمرو بن مرة عن (أبيه) (١) قال: سئل عمر (عما) (٢) يؤخذ من صدقات الأعراب كيف (تصنع) (٣) بها؟ فقال عمر: واللَّه لأردّن عليهم الصدقة حتى (تروح) (٤) على أحدهم مائة ناقة أو مائة بعير (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز دیہاتیوں سے نصف صدقات وصول فرماتے اور نصف لوٹا دیتے ان کے فقراء میں۔
حدیث نمبر: 10954
١٠٩٥٤ - حدثنا (جرير بن) (١) عبد الحميد عن مغيرة عن عمر بن عبد العزيز أخذ نصف صدقات (الأعراب) (٢) ورد نصفها في (فقرائنا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ حضرت عمر فاروق کے صدقات تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ ان کے پاس جب کوئی (فقیروں کی) ہیئت والا شخص آتا تو وہ اس کو عطا فرماتے ۔ وہ کہتا کہ مجھے عطا کرو تو وہ اس کو عطا فرماتے اور اس سے سوال نہ فرماتے ۔
حدیث نمبر: 10955
١٠٩٥٥ - حدثنا أزهر عن ابن عون قال: كان سالم بن عبد اللَّه يقسم صدقة عمر، فيأتيه الرجل ذو (هيئة) (١) قد أعطاه فيقول: أعطني؟ فيعطيه ولا يسأله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عمرو بن سھل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو مکہ کے راستہ میں دیکھا۔ اور زکوٰۃ کے مویشی ان کے ساتھ ہانکے جا رہے تھے۔ حضرت عثمان جدا ہونے والے پیادے کو اس پر سوار کردیتے۔