کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کچھ سالوں کیلئے مال چلا جائے اور وہ پھر اس کو پا لے تو کیا زکوٰۃ ادا کرے گا؟
حدیث نمبر: 10920
١٠٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن عمرو بن ميمون قال: أخذ (الوليد بن عبد الملك) (١) مال رجل من أهل الرقة يقال له أبو عائشة عشرين ألفًا (فألقاها) (٢) في بيت المال، فلما ولي عمر بن عبد العزيز، أتاه ولده، فرفعوا مظلمتهم إليه، فكتب إلى ميمون: ادفعوا إليهم أموالهم وخذوا زكاة عامه هذا، فلولا أنه كان مالًا ضمارًا أخذنا منه زكاة ما مضى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون سے مروی ہے کہ ایک شخص کا مال بعض مظالم کی وجہ سے اس سے لے کر بیت المال میں داخل کردیا گیا۔ جب حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے، تو اس نے یہ بات آپ تک پہنچائی، حضرت عمر بن عبد العزیز نے لکھا اس کا مال اس کو واپس کردو اور گذرے ہوئے سالوں کی زکوٰۃ بھی وصول کرلو پھر اس کے بعد دوبارہ لکھا کہ اس کا مال اس کو واپس کردو اور اس کی زکوٰۃ اس سال کی وصول کرلو کیونکہ یہ ایسا مال ہے جس کی واپسی کی امید نہ تھی۔
حدیث نمبر: 10921
١٠٩٢١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن ميمون أبي رجلًا ذهب له مال في بعض المظالم، (ووقع) (١) في بيت المال، فلما ولي عمر بن عبد العزيز رفع إليه، فكتب عمر أن ادفعوا إليه وخذوا منه زكاة ما مضى، ثم (تبعهم) (٢) (بعد) (٣) بكتاب أدى ادفعوا إليه (ماله) (٤) ثم خذوا منه زكاة ذلك العام فإنه كان مالًا ضمارًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس پر صرف اسی سال کی زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 10922
١٠٩٢٢ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: عليه زكاة ذلك العام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ } کا مصداق وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے درمیان عاریۃ کدال، دیگچی، ڈول اور اس جیسے اشیاء نہیں دیتے ہیں۔