کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بنو تغلب کے نصاریٰ سے کیا وصول کیا جائے گا
حدیث نمبر: 10886
١٠٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن إبراهيم بن المهاجر عن زياد ابن (حدير) (١) قال: بعثني عمر إلى نصارى بني (تغلب) (٢) وأمرني أن آخذ نصف عشر أموالهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے مجھے بنو تغلب کے نصاریٰ کے پاس بھیجا اور حکم فرمایا کہ میں ان سے ان کے اموال کا نصف عشر وصول کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10886
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إبراهيم وشريك صدوقان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10886، ترقيم محمد عوامة 10683)
حدیث نمبر: 10887
١٠٨٨٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن السفاح (بن) (١) مطر عن داود ابن كردوس عن عمر بن الخطاب أنه صالح نصارى بني تغلب على أن تضعف عليهم الزكاة مرتين، وعلى أن (لا) (٢) ينصروا صغيرًا، و (على) (٣) أن لا يكرهوا على دين غيرهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن کردوس سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے بنو تغلب کے نصاریٰ کے ساتھ (اس شرط پہ) صلح فرمائی تھی کہ ان سے زکوٰۃ کا دو گنا وصول کیا جائے گا۔ اور ان کے چھوٹوں کو نصاریٰ نہیں بنایا جائے گا، اور نہ ہی ان کو کسی غیر دین پر مجبور کیا جائے گا۔ داؤد راوی فرماتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے، تحقیق وہ نصرانی ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10887
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10887، ترقيم محمد عوامة 10684)
حدیث نمبر: 10888
١٠٨٨٨ - قال: داود (و) (١) ليست لهم ذمة قد نصروا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10888، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 10889
١٠٨٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن محمد بن زياد بن حدير (١) قال: كنت مع جدِّي، فمر عل نصراني بفرس قيمته [عشرون ألفًا، فقال له: إن شئت أعطيت ألفين وإن شئت أخذت الفرس وأعطيناك (قيمته) (٢)] (٣) ثمانية عشر ألفًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں اپنے دادا کے ساتھ تھا، ہمارے پاس سے ایک نصرانی گھوڑے پر سوار ہو کر گزرا اور اس کے گھوڑے کی قیمت بیس ہزار (درہم) تھی، انہوں نے اس نصرانی سے کہا اگر تو چاہے تو دو ہزار دے دیں، اور اگر تو چاہے تو میں گھوڑا لے لوں اور ہم تجھے اس کی قیمت اٹھارہ ہزار (درہم) دے دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10889
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10889، ترقيم محمد عوامة 10685)
حدیث نمبر: 10890
١٠٨٩٠ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن أبي مجلز أن عمر بعث (١) عثمان بن خيف، فجعل على أهل الذمة في أموالهم التي يختلفون بها في كل عشرين درهمًا درهمًا، وكتب بذلك إلى عمر (بن الخطاب) (٢)، فرضي وأجازه، وقال لعمر: كم تأمرنا أن نأخذ من (تجار) (٣) أهل (الحرب) (٤)؛ قال: كم يأخذون منكم إذا أتيتم (بلادهم) (٥)؟ قالوا: العشر، قال: فكذلك فخذوا منهم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان بن حنیف کو (عشر وغیرہ وصول کرنے کیلئے) بھیجا، انہوں نے ذمیوں کے اموال پر جو دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے تھے اور تجارت کرتے تھے ہر بیس درہم پر ایک درہم مقرر کردیا، اور حضرت عمر فاروق کو یہ لکھ کر بھیج دیا۔ آپ اس پر راضی ہوگئے اور اس کی اجازت دے دی۔ پھر حضرت عمر فاروق سے عرض کیا کہ : آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں کہ ہم اہل حرب کے تاجروں سے کتنا وصول کریں ؟ آپ نے فرمایا جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو تو تم سے کتنا وصول کرتے ہیں۔ لوگوں نے کہا عشر، تو آپ نے فرمایا اتنا ہی تم ان سے وصول کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10890، ترقيم محمد عوامة 10686)
حدیث نمبر: 10891
١٠٨٩١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن (عبيد) (١) اللَّه بن عبد اللَّه (أن) (٢) عمر بن الخطاب استعمل أباه ورجلًا آخر على صدقات أهل (الذمة) (٣) مما يختلفون به إلى المدينة، فكان يأمرهم أن يأخذوا (من) (٤) القمح نصف العشر تخفيفًا عليهم؛ ليحملوا (إلى) (٥) المدينة ومن القطنية -وهي الحبوب- العشر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے میرے والد اور ایک دوسرے شخص کو ذمیوں سے صدقات (عشر وغیرہ) وصول کرنے کا عامل مقرر فرمایا جو مختلف شہروں میں منتقل ہوگئے تھے اور وہاں کاروبار کرتے تھے، اور آپ نے ہمیں حکم فرمایا کہ گیہوں میں سے ان پر تخفیف کرتے ہوئے نصف عشر وصول کرنا تا کہ وہ شہر کی طرف اس کو اٹھائیں۔ اور دالوں وغیرہ پر عشر وصول کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10891
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10891، ترقيم محمد عوامة 10687)
حدیث نمبر: 10892
١٠٨٩٢ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن حماد عن إبراهيم قال: يؤخذ من أهل الذمة من كل عشرين درهمًا (درهم) (١)، ومن أهل الحرب من كل عشرة (دراهم) (٢) درهم ومن أهل الذمة إذا اتجروا في (الخمر) (٣) من كل عشرة دراهم درهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ذمیوں سے ہر بیس درہم کے بدلے ایک درہم وصول کیا جائے گا اور حربیوں سے دس درہم کے بدلے ایک درہم وصول کیا جائے گا، اور جو ذمی شراب کا کاروبار کرتے ہیں ان سے ہر دس درہم پر ایک درہم وصول کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10892
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10892، ترقيم محمد عوامة 10688)
حدیث نمبر: 10893
١٠٨٩٣ - حدثنا يعلى عن يحيى بن سعيد عن (رزيق) (١) مولى بني فزارة أبي عمر بن (الخطاب) (٢) كتب إليه: خذ ممن مر بك من تجار أهل الذمة فيما يظهرون ⦗٣٥٧⦘ من أموالهم ويديرودن من التجارات من كل عشرين دينارًا (دينارًا) (٣)، فما نقص منها فبحسابها حتى (تبلغ) (٤) عشرة، فإذا (نقصت) (٥) ثلاثة دنانير، فدعها لا تأخذ منها شيئًا واكتب لهم براءة إلى مثلها من الحول بما تأخذ منهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے میری طرف لکھ کر بھیجا کہ : ذمی تاجر جو تیرے پاس سے گذریں اور جو مال ان کا ظاہر کیا جاتا ہے اور تجارت میں گھومتا ہے تو ہر بیس دینار پر ایک دینار وصول کرنا، اور جو اس سے کم ہو تو اس سے اسی کمی کے حساب سے وصول کرنا، یہاں تک کہ دس تک پہنچ جائے، پھر جب اس سے بھی تین دینار کم ہوجائیں تو پھر چھوڑ دے کچھ بھی وصول نہ کرو اور ان کیلئے ان سے براءت لکھ دو جو (آگے) وصول کرنے والے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10893
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10893، ترقيم محمد عوامة 10689)
حدیث نمبر: 10894
١٠٨٩٤ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب قال: وسألت الزهري عن جزية نصارى كلب وتغلب، فقال: بلغنا أنه يؤخذ منهم نصف العشر (من) (١) مواشيهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام زہری سے بنو کلب اور بنو تغلب کے جزیہ سے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کے مویشوں پر نصف عشر لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10894
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10894، ترقيم محمد عوامة 10690)