حدیث نمبر: 10880
١٠٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب عن ⦗٣٥٢⦘ (حرب) (١) بن (عبيد اللَّه) (٢) عن جده أبي (أمه) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس على المسلمين عشور إنما العشور على اليهود والنصارى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حرب بن عبید اللہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عشر مسلمانوں پر نہیں ہے۔ بیشک عشر تو یہود و نصاریٰ پر ہے۔
حدیث نمبر: 10881
١٠٨٨١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن حرب بن (عبيد اللَّه) (١) عن (خاله) (٢) عن النبي ﷺ مثل حديث (أبي) (٣) الأحوص (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت ابوالاحوص کی حدیث کی مثل مروی ہے۔
حدیث نمبر: 10882
١٠٨٨٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن إسرائيل عن إبراهيم بن المهاجر قال: حدثني من سمع عمرو بن حريث عن سعيد بن زيد قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يا معشر العرب احمدوا اللَّه الذي وضع (عنكم) (١) العشور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : اے معشر عربٖ اللہ کی تعریف اور حمد بیان کرو کہ اس نے تم پر سے عشر اٹھا لیا ہے۔
حدیث نمبر: 10883
١٠٨٨٣ - حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (تصلح) (٢) قبلتان في أرض وليس على ⦗٣٥٣⦘ مسلم جزية" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک زمین دو قبلوں کی صلاحیت نہیں رکھتی اور مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10884
١٠٨٨٤ - حدثنا شريك عن إبراهيم (بن) (١) المهاجر عن زياد بن (حدير) (٢) قال: بعثني عمر على السواد ونهاني أن (أعشر) (٣) مسلمًا أو ذا ذمة يؤدي الخراج، (يهودي أو نصراني) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے مجھے گاؤں والوں کی طرف بھیجا اور مجھے منع فرمایا کہ میں مسلمانوں سے عشر وصول کروں یا ذمیوں سے جو خراج ادا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10885
١٠٨٨٥ - حدثنا عفان عن حماد بن سلمة عن حميد (عن) (١) الحسن عن عثمان بن (أبي) (٢) العاص (٣) (أن) (٤) (وفد) (٥) ثقيف قدموا على رسول اللَّه ﷺ (فاشترطوا) (٦) عليه أن لا يحشروا ولا يعشروا (ولا يجبوا، فقال رسول اللَّه ﷺ: ⦗٣٥٤⦘ "لكم أن لا تحشروا ولا تعشروا) (٧) ولا يستعمل (عليكم غيركم) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابو العاص سے مروی ہے کہ ثقیف کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے (اسلام لانے کیلئے) شرط لگائی کہ ہم سے ٹیکس، عشر اور خراج نہ وصول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سے ٹیکس (محصل) وصول نہیں کیا جائے گا، تم سے عشر نہیں وصول کیا جائے گا اور نہ ہی تم پر کسی غیر کو حاکم بنایا جائے گا۔