کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جتنا مال نکلنا ہے اس سے زیادہ اس پر قرض ہو سو اس پر زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 10873
١٠٨٧٣ - حدثنا (أبو بكر قال: حدثنا) (١) محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء (حرث) (٢): لرجل دينه أكثر من ماله (فحصد) (٣)، أيؤدي حقه يوم حصاده؟ فقال: ما (ترى) (٤) على الرجل دينه أكثر من (ماله) (٥)، من (صدقة) (٦) في (ماشيته) (٧) ولا في أصلٍ إلا أن يؤدي حقه يوم حصاده يوم (يحصده) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ آدمی کی کھیتی ہے لیکن اس کے مال سے زیادہ اس پر قرض ہے۔ پھر اس کی کھیتی کاٹی گئی کیا جس دن کھیتی کاٹی گئی اس کا حق ادا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : جس پر اس کے مال سے زیادہ قرض ہو ہم نہیں سمجھتے کہ اس کے مویشوں پر اور مستقل سرمایہ پر زکوٰۃ ہے۔ مگر جس دن اس کی کھیتی کاٹی گئی ہے اس دن جو اس پر حق ہے وہ ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 10874
١٠٨٧٤ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال لي أبو الزبير: (١) سمعت طاوسًا يقول: ليس عليه صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔