حدیث نمبر: 10861
١٠٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حفص) (١) عن الشيباني عن الشعبي أن النبي ﷺ بعث عبد اللَّه بن رواحة إلى اليمن (يخرص) (٢) عليهم النخل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو یمن بھیجا کہ وہ تخمینہ لگائیں ان پر کھجوروں کا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کیا انہوں نے ایسا کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
حدیث نمبر: 10862
١٠٨٦٢ - قال: (سألت) (١) الشعبي: أَفعلُه؟ قال: لا.
حدیث نمبر: 10863
١٠٨٦٣ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن ابن طاوس (١) عن أبي بكر بن حزم قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا بعث الخارص أمره أن لا يخرص (النخل) (٢) (٣) العرايا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن حزم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی تخمینہ لگانے والے کو بھیجتے تو اس کو حکم فرماتے کہ ان کھجوروں کا تخمینہ نہ لگائے جو مالک نے کسی محتاج کو دی ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 10864
١٠٨٦٤ - حدثنا أبو داود (و) (١) غندر عن شعبة عن (حبيب) (٢) بن عبد الرحمن قال: سمعت عبد الرحمن بن مسعود يقول: جاء سهل بن أبي ⦗٣٤٦⦘ (حثمة) (٣) إلى (مجلسنا) (٤) فحدث أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إذا خرصتم (فخذوا) (٥) (ودعوا) (٦) الثلث، فإن لم تجدوا الثلث فالربع" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضرت سھل بن ابو حثمہ ہماری مجلس میں تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہمیں سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم تخمینہ لگاؤ تو لے لو اور ایک تہائی چھوڑ دو ، اگر تم تہائی نہ پاؤ تو چوتھائی چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 10865
١٠٨٦٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار أن عمر كان يبعث أبا خيثمة خارصًا للنخل فقال: إذا أتيت أهل (البيت) (١) في حائطهم، فلا (تخرص) (٢) عليهم قدر ما يأكلون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت ابو خیثمہ کو کھجوروں کا تخمینہ لگانے کے لئے بھیجا تو ان سے فرمایا کہ جب تم گھر والوں کے پاس ان کی چاردیواری میں آؤ تو جتنی مقدار وہ کھاتے ہیں اس کا تخمینہ نہ لگاؤ۔
حدیث نمبر: 10866
١٠٨٦٦ - حدثنا محمد بن (١) بكر عن ابن (جريج) (٢) عن أبي الزبير عن جابر أنه سمعه يقول: (خرصها) (٣) ابن رواحة [يعني (خيبر) (٤) أربعين ألف وسق، ⦗٣٤٧⦘ (فزعم) (٥) أن اليهود لما (خيرهم) (٦) ابن رواحة] (٧) أخذوا (التمر) (٨) وعليهم عشرون ألف وسق (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے خیبر کی کھجوروں کا تخمینہ لگایا تو وہ چالیس ہزار وسق تھے۔ حضرت جابر کا خیال تھا کہ حضرت ابن رواحہ نے جب یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے کھجور لی اور ان پر ٢٠ ہزار وسق لازم تھے۔
حدیث نمبر: 10867
١٠٨٦٧ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن قيس بن (سعد) (١) عن مكحول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خفف على الناس في الخرص (فإن) (٢) في المال العرية والوصية"، قال: العرية النخلة (يرثها) (٣) الرجل في حائط الرجل، (والوصية) (٤): الرجل يوصي بالوصية للمساكين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں پر تخمینہ لگانے میں تخفیف کا معاملہ کرو۔ بیشک لوگوں کے مال میں کچھ کھجوریں محتاجوں کیلئے ہوتی ہیں اور کچھ گری ہوئی ہوتی ہیں جنہیں لوگ روندتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10868
١٠٨٦٨ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن رسول اللَّه ﷺ أمر (عتاب) (١) بن أسيد أن يخرص العنب ⦗٣٤٨⦘ كما يخرص النخل (فتؤدى) (٢) زكاته (زبيبًا) (٣) كما (تؤدى) (٤) زكاة النخل (تمرًا) (٥) فتلك سنة رسول اللَّه ﷺ في النخل والعنب (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عتاب بن اسید کو حکم فرمایا کہ وہ تخمینہ لگائیں انگوروں کا جیسا کہ کھجوروں کا لگایا جاتا ہے۔ پھر کشمش سے اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ جیسے کہ کھجور کی زکوٰۃ خشک کھجور سے ادا کی جاتی ہے۔ کھجور اور انگور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 10869
١٠٨٦٩ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال لي عبد الكريم (وعمرو) (١) بن دينار يخرص النخل والعنب وس لا يخرص الحب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ کھجوروں اور انگوروں کا تخمینہ لگایا جائے گا لیکن دانوں کا تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔