کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جس پر قرض ہو وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 10852
١٠٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) معتمر عن ليث عن طاوس قال: إذا كان عليك دين فلا (تزكيه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب آپ پر قرضہ ہو تو آپ زکوٰۃ ادا نہ کرو۔
حدیث نمبر: 10853
١٠٨٥٣ - حدثنا عبد الرحيم عن عبد الملك عن عطاء (في الرجل) (١) يكون عليه الدين السنة والسنتين (أيزكيه)؟ (٢) قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے پوچھا گیا کہ ایک شخص پر ایک سال یا دو سالوں سے قرض ہے کیا وہ زکوٰۃ ادا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
حدیث نمبر: 10854
١٠٨٥٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا كان (حين) (١) يزكي الرجل (٢) (ماله) (٣) نظر ما للناس عليه، فيعزله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص مال کی زکوٰۃ ادا کرنے لگے تو پہلے دیکھ لے کہ لوگوں کا جو اس پر (قرض) ہے اس کو الگ کرلے۔
حدیث نمبر: 10855
١٠٨٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن فضيل قال: لا تزك ما للناس عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ جو لوگوں کا تجھ پر قرض ہے اس پر تو زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 10856
١٠٨٥٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: (للزكاة) (١) حد معلوم (فإذا) (٢) جاء ذلك حسب (ماله) (٣) الشاهد والغائب، فيؤدي عنه إلا ما كان من دين (عليه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کی مقدار اور حد معلوم ہے، جب وہ مقدار آجائے تو جو مال موجود ہے اور جو غائب ہے ان سب کا حساب کر اور اس پر زکوٰۃ ادا کر، ہاں مگر جو تجھ پر قرض ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10857
١٠٨٥٧ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر عن ميمون قال: (اطرح) (١) ما كان عليك من الدين (ثم) (٢) زك ما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جو تجھ پر قرض ہے اس کو (پہلے) الگ کرلے پھر جو بچے (اگر وہ نصاب کے برابر ہو) تو اس پر زکوٰۃ ادا کر۔
حدیث نمبر: 10858
١٠٨٥٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن السائب بن يزيد قال: سمعت عثمان يقول: (١) هذا (شهر) (٢) زكاتكم، فمن كان عليه (دين) (٣)، فليقضه، وزكوا (٤) بقية أموالكم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ تمہارا زکوٰۃ کا مہینہ ہے، جس پر قرض ہے اس کو چاہئے کہ اس قرض کو ادا کرے اور اپنے بقیہ مال پر زکوٰۃ ادا کرے۔
حدیث نمبر: 10859
١٠٨٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت حمادًا عن الرجل يكون عليه الدين وفي (يده) (١) (مال) (٢) أيزكيه؟ قال: نعم (٣) عليه (زكاته) (٤)، ألا ترى أنه ضامن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص پر کچھ قرض ہے اور اس کے پاس کچھ مال بھی موجود ہے کیا وہ زکوٰۃ ادا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر زکوٰۃ ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ وہ ضامن ہے، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے پھر حضرت ربیعہ سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے بھی حضرت حماد کی طرح جواب ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 10860
١٠٨٦٠ - وسألت ربيعة، فقال: مثل قول حماد.