حدیث نمبر: 10847
١٠٨٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن زياد الألهاني قال: سمعت أبا أمامة الباهلي يقول: حليف السيف من (الكنوز) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن زیاد الالھانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو امامہ باہلی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ : تلوار کا زیور خزانہ میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 10848
١٠٨٤٨ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبيد اللَّه بن عبيد قال: قلت لمكحول يا أبا (عبد اللَّه) (١) إن لي سيفًا فيه خمسون ومائة درهم علي (فيها) (٢) زكاة فقال: (أضف) (٣) إليها ما كان لك من ذهب وفضة، فعليك فيه (٤) الزكاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول سے کہا : اے ابو عبد اللہ ! میرے پاس ایک تلوار ہے جو ایک سو پچاس درہم کی ہے۔ کیا اس کی زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا : تیرے پاس جو سو نا چاندی ہے اس کے ساتھ ملا لے اور پھر اس میں زکوٰۃ ہے وہ ادا کر دے۔
حدیث نمبر: 10849
١٠٨٤٩ - حدثنا عبد الرحيم عن حجاج قال: سألت عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء ، حضرت حماد اور ابراہیم سے دریافت کیا کہ میرے پاس ایک برتن ہے جس پر پانی (سونے یا چاندی کا) چڑھا ہوا ہے اور زیور والی تلوار ہے اور زیور والا پٹکا ہے۔ جب میں سب کو جمع کرتا ہوں تو ان کی قیمت دو سو درہم بن جاتی ہے، کیا میں اس پر زکوٰۃ ادا کروں گا ؟ سب حضرات نے فرمایا کہ نہیں۔
حدیث نمبر: 10850
١٠٨٥٠ - وحمادًا (عن) (١) إبراهيم عن القدح (٢) المفضض والسيف المحلى والمنطقة (المحلاة) (٣) (٤) إذا جمعته فكان فيه (مائتا) (٥) درهم أزكيه (قالوا) (٦): لا.
حدیث نمبر: 10851
١٠٨٥١ - حديث إسماعيل بن عياش عن مالك بن عبد اللَّه (الكلاعي) (١) قال: سمعت (خالد) (٢) بن (معدان) (٣) يقول: حلية (السيف) (٤) من الكنوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن عبد اللہ الکلاعی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مالک بن مغول کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تلوار کا زیور (حکم میں) خزانہ میں سے ہے۔