کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بیت المال سے سال یا چھ ماہ بعد جو وظائف وغیرہ ملتے ہیں اس پر زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 10759
١٠٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن عقبة عن القاسم قال: كان أبو بكر إذا أعطى (الناس) (١) العطاء (سأل) (٢) (الرجل: ألك) (٣) مال؟ (فإن) (٤) قال: نعم. زكى ماله من عطائه وإلا سلم له عطاءه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر جب بیت المال سے کسی کو وظیفہ دیتے تو اس سے دریافت فرماتے کہ کیا تیرے پاس مال موجود ہے ؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہوتا تو آپ اس کے وظیفہ کے مال میں سے زکوٰۃ نکال لیتے وگرنہ اسکے سپرد کردیتے۔
حدیث نمبر: 10760
١٠٧٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن هبيرة عن عبد اللَّه قال: كان (يعطينا) (١) (العطاء) (٢) في (الزبل) (٣) (فيزكيه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں بیت المال سے عطاء (وظیفہ) میں دس سے پچیس اونٹ یا بکریاں ملتیں تو ہم اس پر زکوٰۃ ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 10761
١٠٧٦١ - حدثنا عبد الرحيم عن زكريا عن أبي إسحاق عن هبيرة قال: كان ابن مسعود يزكي (أعطياتهم) (١) من كل ألف (خمسة) (٢) وعشرين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہبیرہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وظائف پر زکوٰۃ ادا فرماتے وہ ہر ہزار پر پچیس ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 10762
١٠٧٦٢ - حدثنا عبد الأعلى عن أبي إسحاق عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن عبد القاري وكان على بيت المال في زمن عمر مع (عبد اللَّه) (١) بن الأرقم (فكان إذا) (٢) خرج العطاء جمع عمر أموال (التجار) (٣)، (فيحسب) (٤) عاجلها وآجلها ثم يأخذ الزكاة من الشاهد والغا (ئب) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری حضرت عبد اللہ بن ارقم کے ساتھ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں بیت المال پر (نگران) مقرر تھے۔ جب بیت المال سے وظائف نکالے جاتے تو حضرت عمر تاجروں کے مال کو جمع فرماتے پھر نقد اور ادھار کا حساب لگاتے اور پھر ہر حاضر و غائب سے زکوٰۃ وصول فرماتے ۔
حدیث نمبر: 10763
١٠٧٦٣ - حدثنا (بشر) (١) بن (المفضل) (٢) عن محمد بن عقبة عن القاسم قال: كان أبو بكر إذا أعطى (الرجل) (٣) العطاء مسألة، ثم ذكر نحو حديث وكيع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق جب کسی شخص کو وظیفہ عطا فرماتے تو اس سے دریافت فرماتے ۔ باقی حدیث اسی طرح بیان فرمائی۔
حدیث نمبر: 10764
١٠٧٦٤ - حدثنا (عبد الرحيم ووكيع) (١) عن إسرائيل عن مخارق (عن) (٢) (طارق) (٣) أن عمر بن الخطاب كان يعطيهم العطاء ولا يزكيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق سے مروی ہے حضرت عمر فاروق جب کسی شخص کو بیت المال میں سے وظیفہ (بخشش) عطا فرماتے تو اس پر زکوٰۃ نہ نکالتے۔
حدیث نمبر: 10765
١٠٧٦٥ - حدثنا محمد [بن أبي عدي (عن ابن عون) (١) عن محمد قال: رأيت (الأمراء) (٢) إذا أعطوا العطاء زكوه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے امراء (صحابہ کرام ) کو دیکھا ہے جب ان کو عطایا ملتے ہیں تو اس پر زکوٰۃ بھی ادا فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10766
١٠٧٦٦ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) (٢) عن جعفر] (٣) بن برقان عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يزكي العطاء والجائزة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز عطاء (وظیفہ) اور انعامات پر زکوٰۃ ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 10767
١٠٧٦٧ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن بعض أصحابه عن ابن مسعود أنه كان يعطي العطاء (ويزكيه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب کسی کو وظیفہ عطا فرماتے تو اس پر زکوٰۃ بھی ادا فرماتے ۔