کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: زکوٰۃ کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کرنے کو بعض حضرات نے ناپسندیدہ کہا ہے
حدیث نمبر: 10594
١٠٥٩٤ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام سے مروی ہے کہ حسن اور دوسرے حضرات زکوٰۃ کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کو ناپسند فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10595
١٠٥٩٥ - وعن هشام أو غيره عن الحسن أنهما كانا يكرهان أن يخرج الزكاة من بلد إلى بلد.
حدیث نمبر: 10596
١٠٥٩٦ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن أنه كره (أن تحمل الصدقة) (١) من بلد إلى بلد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانا ناپسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 10597
١٠٥٩٧ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عبد العزبز بن أبي (رواد) (١) أن عمر ابن عبد العزبز بعث إليه بزكاة من العراق إلى الشام، فردها إلى العراق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن ابو رواد سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس عراق اور شام کی زکوٰۃ وصول کر کے ارسال کی گئی تو آپ نے وہ زکوٰۃ کا مال واپس عراق بھجوا دیا۔
حدیث نمبر: 10598
١٠٥٩٨ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن (عثمان) (١) بن مرة قال: سألت امرأة القاسم، فقالت: اجتمع عندنا دراهم من زكاتنا، فبعثت بها إلى الشام، فقال: ادفعوها إلى الأمير الذي بالمدينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن مرہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حضرت قاسم سے دریافت فرمایا کہ ہمارے پاس زکوٰۃ کے کچھ دراہم موجود ہیں کیا ہم انہیں شام بھیج دیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ میں جو امیر اور حاکم ہے اسکو ادا کرو۔ (شہر سے دوسرے شہر منتقل نہ کرو) ۔
حدیث نمبر: 10599
١٠٥٩٩ - حدثنا وكيع عن أبي (لينة) (١) عن الضحاك قال: ضع الزكاة في القرية التي أنت فيها فإن لم يكن فيها فقير (فإلى) (٢) التي تليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شہر میں آپ ہیں زکوٰۃ کو اسی شہر میں رکھیں۔ اور اگر اس شہر میں فقراء (اور مستحقین ) نہ ہوں تو جو شہر اس کے قریب ہے وہاں لے جاؤ۔
حدیث نمبر: 10600
١٠٦٠٠ - حدثنا أبو خالد وليس بالأحمر عن حماد بن سلمة [عن (فرقد) (١) السبخي] (٢) قال: بعث معي بزكاة إلى مكة، فلقيت سعيد بن جبير، فقال: ردها إلى الأرض التي حملتها منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرقد السبخی فرماتے ہیں کہ مجھے زکوٰۃ دے کر مکہ بھیجا گیا تو میری حضرت سعید بن جبیر سے ملاقات ہوگئی۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جس شہر سے یہ وصول کی گئی ہے واپس اسی شہر اس کو لے جاؤ۔