کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کوئی چیز صدقہ کرے
حدیث نمبر: 10564
١٠٥٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن عبيد بن (سلمان) (١) عن ابن المسيب قال: لا يتصدق العبد على والده ولا على أمه إلا بإذن سيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ غلام اپنے والد اور والدہ پر آقا کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 10565
١٠٥٦٥ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن (درهم) (١) قال: سألت أبا هريرة قلت: أنه قد جعل عليَّ (مولاي) (٢) درهمًا في اليوم، فأتصدق. قال: لا يحل لك من (دمك) (٣) ولا من مالك شيء إلا بإذنه، تناول (المسكين) (٤) اللقمة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت درہم فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ سے دریافت فرمایا کہ میرے آقا مجھے ایک دن کا ایک درہم دیتے ہیں۔ کیا میں صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : تیرے لئے تیرے خون اور تیرے مال میں آقا کی اجازت کے بغیر کچھ بھی (صدقہ کرنا) جائز نہیں ہے۔ تو مسکین کو لقمہ کھلا دیا کر (تیرے لئے یہی کافی ہے) ۔
حدیث نمبر: 10566
١٠٥٦٦ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء قال: لا يتصدق العبد بشيء من ماله إلا بإذن مولاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ غلام آقا کی اجازت کے بغیر صدقہ نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 10567
١٠٥٦٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن سليمان قال: شهدت الشعبي، وسأله مملوك قال: إني أكتسب كذا وكذا، (فيأخذ) (١) مولاي كذا وكذا، (أفأتصدق)؟ (٢) قال: إذن يكون الأجر لمواليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن سلیمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت شعبی کے پاس حاضر تھا کہ ایک غلام نے آپ سے سوال کیا کہ میں اتنا اتنا کماتا ہوں اور اس میں سے اتنا اتنا میرا آقا لے لیتا ہے۔ کیا میں صدقہ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا (تو صدقہ کرے بھی تو) اس کا اجر تیرے آقا کیلئے ہے۔