حدیث نمبر: 10472
١٠٤٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) (بشر) (٢) بن (المفضل) (٣) عن سهيل عن أبيه قال: سألت (سعدًا) (٤) وابن (عمر) (٥) وأبا هريرة و (أبا) (٦) سعيد فقلت: ⦗٢٥٢⦘ [(إن) (٧) لي مالا] (٨) وأنا أريد أن أعطي زكاته، ولا أجد له (موضعا) (٩)، وهؤلاء يصنعون فيها ما (ترون) (١٠)، فقال: كلهم (أمروني) (١١) أن أدفعها إليهم (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہیل سے مروی ہے کہ ان کے والد نے حضرت سعد، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید سے سوال کیا کہ میرے پاس مال ہے اور میں اس کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن میں کوئی جگہ نہیں پا رہا جہاں زکوٰۃ ادا کروں، اور یہ سب لوگ اس میں جو کام کرتے ہیں وہ تو آپ جانتے ہیں۔ آپ حضرات کی کیا رائے ہے ؟ سب حضرات نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو ادا کروں۔
حدیث نمبر: 10473
١٠٤٧٣ - حدثنا معاذ بن معاذ عن اين عون عن نافع قال: قال ابن عمر: (ادفعوا زكاة) (١) أموالكم إلى من ولاه اللَّه أمركم، فمن بر (فلنفسه) (٢) ومن أثم فعليها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے ولی (بادشاہ) بنانے کا تمہیں حکم دیا ہے، پس جو شخص نیکی کرے گا اس کا ثواب اسی کیلئے ہے اور جو گناہ کا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔
حدیث نمبر: 10474
١٠٤٧٤ - حدثنا معاذ بن معاذ عن حاتم بن أبي (صغيرة) (١) قال: حدثني (رياح) (٢) بن عبيدة عن قزعة قال: قلت لابن عمر: إن لي مالا فإلى من أدفع زكاته؟ قال: ادفعها إلى هؤلاء القوم: يعني الأمراء، قلت: إذن (يتخذون) (٣) بها ثيابًا وطيبًا قال: و (إن اتخذوا ثيابًا وطيبًا ولكن في مالك) (٤) حق سوى الزكاة يا (قزعة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قزعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا : میرے پاس مال ہے میں زکوٰۃ کس کو ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس قوم کو یعنی امراء کو (بادشاہوں کو) میں نے عرض کیا پھر تو وہ اس کے کپڑے اور خوشبو بنالیں گے (اور خود استعمال کریں گے) آپ نے فرمایا اگرچہ وہ کپڑے اور خوشبو بنالیں، اے قزعہ تیرے مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔
حدیث نمبر: 10475
١٠٤٧٥ - حدثنا وكيع عن حاجب بن عمر عن الحكم (بن الأعرج) (١) قال: سألت ابن عمر فقال: ادفعها إليهم وإن أكلوا بها لحوم الكلاب، فلما (أعادوا) (٢) (عليه) (٣) قال: ادفعها إليهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے (اس بارے میں) سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا ان کو دیدو۔ اگرچہ وہ اس سے کتے کا گوشت کھائیں جب لوگوں نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا ان کو دیدو۔
حدیث نمبر: 10476
١٠٤٧٦ - [حدثنا وكيع عن مثنى بن سعيد عن أبي التياح عن نعيم بن (مجالد) (١) قال: سألت ابن عمر عنها فقال: ادفعها إليهم، وإن أكلوا بها (البيشبا رجات) (٢)] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا ان کو (بادشاہوں) ادا کردو اگرچہ وہ اس سے لذیذ چیز کھائیں۔ (البیشیار جات : وہ چیز جو مہمان کو کھانے سے پہلے پیش کی جائے۔ )
حدیث نمبر: 10477
١٠٤٧٧ - حدثنا وكيع عن يونس بن الحارث عن داود بن أبي عاصم عن المغيرة ابن شعبة أنه كان يبعث (بصدقته) (١) إلى الأمراء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ اپنی زکوٰۃ امراء (بادشاہوں) کی طرف بھیجا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 10478
١٠٤٧٨ - حدثنا غندر عن هشام الدستوائي عن (يحيى) (١) بن أبي كثير (أن) (٢) حذيفة وسعيدًا وابن عمر كانوا يرون أن تدفع الزكاة إلى السلطان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابو کثیر سے مروی ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن عمیر فرمایا کرتے تھے کہ زکوٰۃ نکال کر بادشاہوں کو دینی چاہئے۔
حدیث نمبر: 10479
١٠٤٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: كانت الصدقة تدفع إلى النبي (ﷺ) ومن أمر به، وإلى أبي بكر ومن أمر به، وإلى عمر ومن أمر به، وإلى عثمان ومن أمر به، فلما قتل عثمان اختلفوا؛ فمنهم من رأى أن يدفعها إليهم، ومنهم من رأى أن يقسمها هو، قال محمد: فليتق اللَّه من اختار أن يقسمها هو، ولا يكون يعيب عليهم شيئا يأتي مثل الذي (يعيب) (١) عليهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی جاتی تھی اور جس کو آپ نے وصول کرنے کا حکم دیا تھا اس کو پھر حضرت ابوبکر کو اور جن کو انہوں نے حکم دیا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عمر کو اور جن کو انہوں نے حکم فرمایا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عثمان کو اور جن کو آپ نے حکم فرمایا تھا ان کو، جب حضرت عثمان شہید ہوگئے تو لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ بعض کی رائے یہ تھی کہ اب بھی ان کو دی جائے (امراء کو) اور بعض حضرات کی رائے تھی کہ خود تقسیم کی جائے۔ محمد نے فرمایا : جو لوگ زکوٰۃ خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور نہ عیب لگائیں ان پر کسی چیز کا مثل اس کے جو وہ عیب وہ ان پر لگاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10480
١٠٤٨٠ - حدثنا عبدة عن حارثة بن أبي (الرجال) (١) قال: سألت (عمرة عن الزكاة) (٢) فقالت: قالت عائشة: (ادفعوها) (٣) إلى أولي الأمر منكم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حاثہ بن ابی رجال فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرہ سے زکوٰۃ ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا ؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ زکوٰۃ اپنے امراء کو ادا کرو۔
حدیث نمبر: 10481
١٠٤٨١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن حبيب قال: سألت أبا جعفر عن الزكاة أدفعها إلى (الولاة) (١) (قال) (٢): ادفعها إليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حبیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے زکوٰۃ سے متعلق دریافت کیا کہ کیا زکوٰۃ امراء کو ادا کی جائے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں امراء کو ادا کی جائے۔
حدیث نمبر: 10482
١٠٤٨٢ - حدثنا عبدة عن عائشة عن الحسن قال: أربع إلى السلطان: الصلاة والزكاة والحدود (والقضاء) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چار چیزیں بادشاہوں کا حق ہے۔ نماز (امامت) زکوٰۃ، حدود (قائم کرنا) اور فیصلہ کرنا۔
حدیث نمبر: 10483
١٠٤٨٣ - [حدثنا وكيع عن ابن عون عن الحسن قال: ضمن أو (يضمن) (١) هؤلاء القوم أربعًا: الصلاة والزكاة والحدود] (٢) والحكم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو (بادشاہوں کو) چار چیزوں کا ضامن بنایا گیا ہے۔ نماز، زکوٰۃ، حدود اور فیصلہ کا۔
حدیث نمبر: 10484
١٠٤٨٤ - حدثنا عبد الوهاب عن خالد عن أبي (قلابة) (١) أنه سئل عن الزكاة (قال) (٢): (ادفعها) (٣) (إلى السلطان) (٤) فقيل: إنهم يفعلون فيها ويفعلون مرتين، قال: فتستطيعون أن (تضعوها) (٥) مواضعها؟ قالوا: لا. قال: فادفعوها إليهم.
حدیث نمبر: 10485
١٠٤٨٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمران بن مسلم عن خيثمة عن ابن عمر قال: أعطوها الأمراء ما صلوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اپنی زکوٰۃ ان امراء کو بھی ادا کرو جو نماز نہیں پڑھتے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس فرمان کا مطلب ہے کہ ان امراء کو بھی ادا کرو جو نماز کو وقت پر نہیں پڑھتے۔
حدیث نمبر: 10486
١٠٤٨٦ - قال: وقال خيثمة: ما صلوا الصلاة لوقتها.
حدیث نمبر: 10487
١٠٤٨٧ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن كلثوم بن (جبر) (١) عن مسلم ابن (يسار) (٢) أنه قال: (وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة) قال: هذه الفريضة إلى السلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { وَأَقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ } (نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو) اس فریضہ کا تعلق بادشاہ کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 10488
١٠٤٨٨ - حدثنا (معتمر عن معمر) (١) عن الزهري أنه كان يرى أن (تدفع) (٢) الزكاة إلى السلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ بادشاہ کو دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 10489
١٠٤٨٩ - حدثنا كثير بن هشام قال: (ثنا) (١) هشام عن يحيى (عن) (٢) ⦗٢٥٦⦘ عبد الرحمن بن (البيلماني) (٣) قال: قال أبو بكر (الصديق) (٤) فيما يوصي به عمر: من أدى الزكاة إلى غير ولاتها لم تقبل منه (زكاته) (٥) وصدقته، ولو تصدق بالدنيا جميعا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن البیلمانی سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے حضرت عمر کو جو وصیت فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ جو شخص امراء کے علاوہ کسی اور کو زکوٰۃ ادا کرے اس کی زکوٰۃ قبول نہیں اگرچہ وہ پوری دنیا زکوٰۃ میں ادا کر دے۔
حدیث نمبر: 10490
١٠٤٩٠ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) عثمان بن الأسود عن مجاهد وعطاء (قالا) (٣): أدّ زكاة مالك إلى السلطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اپنے مال کی زکوٰۃ سلطان کو ادا کر۔
حدیث نمبر: 10491
١٠٤٩١ - حدثنا (أسود بن عامر) (١) قال: حدثنا شريك عن حكيم بن ديلم (عن أبي صالح) (٢) عن أبي هريرة وابن عمر قالا: ادفع زكاة مالك إلى السلطان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اپنے مال کی زکوٰۃ بادشاہ کو ادا کرو۔