حدیث نمبر: 10456
١٠٤٥٦ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يرى في الحلي زكاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما زیورات پر زکوٰۃ فرض نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 10457
١٠٤٥٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه بن ذكوان وعمرو بن مرة عن القاسم قال: (كان مالنا عند عائشة فكانت تزكيه) (١) إلا الحلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ ہمارا مال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ کے پاس تھا آپ نے اس پر زکوٰۃ ادا کی سوائے زیورات کے (کہ ان پر زکوٰۃ ادا نہ کی) ۔
حدیث نمبر: 10458
١٠٤٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة أنها كانت لا تزكيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10459
١٠٤٥٩ - حدثنا وكيع عن دلهم بن صالح (١) عن عطاء عن عائشة (قال) (٢) (كان) (٣) لبنات أخيها حلي فلم تكن تزكيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھتیجی کا زیور موجود تھا لیکن آپ اس پر زکوٰۃ نہ ادا فرماتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10460
١٠٤٦٠ - حدثنا عبدة بن سليمان (١) عن عبد الملك عن أبي (الزبير) (٢) عن جابر قال: لا زكاة في الحلي قلت: إنه (يكون) (٣) (فيه) (٤) ألف دينار قال: يعار وبلبس (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر سے مروی ہے کہ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر وہ ہزار دینار ہوں تو ؟ آپ نے فرمایا : اس کو عاریت پر دیا جائیگا اور پہنا جائیگا۔
حدیث نمبر: 10461
١٠٤٦١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام (بن عروة) (١) عن فاطمة بنت المنذر عن (أسماء) (٢) أنها كانت (لا تزكي الحلي) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت المنذر فرماتی ہیں کہ حضرت اسماء زیورات پر زکوٰۃ ادا نہیں فرمایا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10462
١٠٤٦٢ - [حدثنا وكيع عن هشام (بن) (١) عروة عن فاطمة عن (أسماء) (٢) أنها كانت تحلي (بناتها) (٣) الذهب ولا تزكيه] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ فرماتی ہیں کہ حضرت اسماء اپنی بیٹیوں کو سونے کا زیور پہناتی تھیں، لیکن وہ اس پر زکوٰۃ ادا نہ فرمایا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10463
١٠٤٦٣ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد قال: سألت (عمرة) (١) عن زكاة الحلي، فقالت: ما رأيت أحدًا يزكيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرہ سے زیورات پر زکوٰۃ سے متعلق دریافت کیا ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو زیورات پر زکوٰۃ کا قائل ہو۔
حدیث نمبر: 10464
١٠٤٦٤ - حدثنا وكيع عن زياد بن (أبي) (١) مسلم عن الحسن قال (٢): (لا) (٣) (نعلم) (٤) أحدًا من الخلفاء قال: في الحلي زكاة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ میں خلفائے راشدین میں کسی کو بھی جانتا کہ وہ زیورات پر زکوٰۃ کا قائل ہو۔
حدیث نمبر: 10465
١٠٤٦٥ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن [الحسن قال: ليس في الحلي زكاة، يعار ويلبس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے ان کو عاریۃ دیا جائیگا اور خود بھی پہنا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10466
١٠٤٦٦ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن (وخلاس) (١) (قالا) (٢): لا زكاة في الحلي] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت خلاس فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10467
١٠٤٦٧ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين، وأبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الشعبي (قال) (١): زكاة الحلي عاريته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ زیورات کی زکوٰۃ اس کو عاریت پر دینا ہے۔
حدیث نمبر: 10468
١٠٤٦٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن عبد الملك قال: سمعت أبا جعفر يقول: ليس في الحلي زكاة (ثم قرأ: ﴿وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا﴾) (١) [النحل: ١٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا }۔
حدیث نمبر: 10469
١٠٤٦٩ - [حدثنا وكيع عن (الحسن) (١) عن جعفر عن أبيه قال: ليس في الحلي زكاة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10470
١٠٤٧٠ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن ابن المسيب قال: زكاة الحلي (يعار) (١) (ويلبس) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ زیورات کی زکوٰۃ ان کا عاریت پر دینا اور خود پہننا ہے۔
حدیث نمبر: 10471
١٠٤٧١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن عمارة عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن عمرة قالت: كنا أيتامًا في حجر عائشة وكان (لنا) (١) حلي فكانت لا تزكيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ فرماتی ہیں کہ ہم یتیم تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھی اور ہمارا زیور آپ کے پاس تھا۔ آپ اس میں سے زکوٰۃ نہ نکالا کرتی تھیں۔